امریکی امداد یا سی آئی اے کی سازشوں کا جال

|تحریر: جو اتارڈ، ترجمہ: ولید خان|

ایلون مسک کے DODGE (ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشینسی) نے امریکی USAID (امریکی ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ) کو بیچ چوراہے میں تیل چھڑک کر خاکستر کر دیا ہے۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

ڈیموکریٹس اور لبرل افسر شاہی نے آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے۔ اگرچہ ہم کمیونسٹ جانتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ USAID کو اس سفاکی کے ساتھ کیوں ختم کر رہا ہے لیکن اس فنڈ کو منجمد کرنے کے عمل نے CIA کے اس نام نہاد ”انسان دوست فرنٹ“ کی حقیقی فطرت کو ننگا کر دیا ہے جس کا تاریخی کردار امریکی سامراج کی ”نرم قوت“ کا اظہار تھا۔

مسک کئی ہفتوں سے USAID کے مستقبل کے لیے ”ناقابل اصلاح“، ”گلا سڑا سیب“ اور ”کیڑوں کا اکٹھ“ وغیرہ جیسے الفاظ استعمال کر رہا تھا۔

جمعہ کے دن 31 جنوری کو اس نے DODGE سے ”پراعتماد نوجوان انجینئروں“ کی ایک حملہ آور ٹیم USAID کے کمپیوٹر سسٹم اور خفیہ ڈیٹا حاصل کرنے کے لئے بھیجی۔ وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی کہ مسک کو مکمل حمایت حاصل ہے جبکہ سیکرٹری ریاستی امور مارکو روبیو (جسے USAID کا عارضی سربراہ مقرر کیا گیا ہے) نے اس صفائی کی وجہ بتائی کہ یہ ایجنسی پیسوں کا ضیاع ہے اور اس کا عملہ ”حکم عدولی“ کا مجرم ہے۔

ڈیموکریٹس نے واویلا مچا رکھا ہے کہ مسک ”طاقت پر قبضے“ کی کوشش کر رہا ہے جبکہ نیو جرسی سنیٹر اینڈی کِم (جو پہلے اس ایجنسی میں کام کر چکا ہے) نے سوشل میڈیا پر پوسٹ لگائی کہ:

”(USAID) خارجہ پالیسی کا ایک اوزار ہے جس کا دو طرفہ (یعنی دونوں سیاسی پارٹیوں کی حمایت سے) جنم ہوا تھا اور آج کے خطرناک عالمی حالات میں اس کا کلیدی کردار ہے۔ اس کو ختم کرنے کا مطلب ہماری مسابقت اور امریکہ کو محفوظ رکھنے کو ختم کرنا ہے۔“

یہ ایک ایسی تنظیم کے لیے عجیب و غریب الفاظ ہیں جس کا مقصد انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر کام کرنا ہے۔ اس طرح کی لفاظی ورمونٹ سنیٹر اور خود ساختہ ڈیموکریٹک سوشلسٹ برنی سینڈرز نے بھی مسک کے آپریشن کے خلاف کی کہ:

”دنیا کا امیر ترین آدمی ایلون مسک USAID کو ختم کر رہا ہے جو دنیا کے غریب ترین بچوں کو پال رہی ہے۔۔ یہ اولیگارکی (امیر ترین افراد کی حکومت) کی انتہاء ہے۔“

سینڈرز (اس نے بدنام زمانہ رجعتی مارکو روبیو کی بطور سیکرٹری ریاستی امور تقرری کے حق میں ووٹ دیا ہے) USAID کے حقیقی کردار کو بالکل غلط پیش کر رہا ہے۔ وہ اور دیگر ڈیموکریٹس امریکی سامراج کی مداخلت کے ایک اہم اوزار کا دفاع کر رہے ہیں۔ کئی ممالک میں نام نہاد ”آزاد میڈیا“ اور ”سول سوسائٹی“ گروہوں کو درپیش معاشی بحران اس حقیقت کو واضح کر رہا ہے۔

آزاد میڈیا: انکل سام کی تنخواہ پر زندہ

ایک میمو کا انکشاف ہوا ہے جس کے مطابق 2023ء میں USAID کے ذریعے 6 ہزار 200 صحافیوں، 707 غیر ریاستی میڈیا اداروں اور 279 میڈیا سیکٹر سول سوسائٹی تنظیموں کو فنڈ کیا جا رہا تھا۔ RSF (رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز) کے ایک اعلامیے میں احتجاج کیا گیا ہے کہ USAID کی فنڈنگ ختم کرنے سے ”ایک خلاء پیدا ہو جائے گا جس سے پروپیگنڈہ کرنے والے اور آمرانہ ریاستیں فائدہ اٹھائیں گی۔“

RSFکے مطابق USAID صحافیوں کو جو پیسے دیتا ہے وہ پروپیگنڈہ نہیں بلکہ ”انفارمیشن کے آزادانہ بہاؤ“ کا ذریعہ ہے۔ یہ تو محض اتفاق ہے کہ USAID کی تنخواہ پر کام کرنے والے تمام ”آزاد“ پلیٹ فارم واشنگٹن کے خارجہ پالیسی ایجنڈے کا پرچار کرتے ہیں اور اس کے دشمنوں میں انتشار پھیلاتے ہیں۔

مثلاً رپورٹس کے مطابق یوکرین کا 90 فیصد میڈیا بیرونی فنڈنگ پر زندہ ہے جس میں بڑا حصہ USAID فنڈ سے آتا ہے۔۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسے ”آزاد“ کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔ ڈٹیکٹر میڈیا ”جرنل ازم واچ ڈاگ“ کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے فنڈنگ کی روک تھام نے ”تین دہائیوں کا کام خطرے میں ڈال دیا ہے اور یوکرین کی ریاست، جمہوری اقدار اور مغرب نواز رغبت کو درپیش خطرات بڑھ چکے ہیں۔“

اسی طرح روسی حزب اختلاف میڈیا کو جان کے لالے پڑ چکے ہیں۔ ایسے ہی ایک میڈیا گروپ (The Bell) کے مطابق ”زیادہ تر روسی ملک بدر این جی اوز اور میڈیا کا انحصار گرانٹس پر ہوتا ہے کیونکہ ان کا سب سے بڑا۔۔ اور اکثر واحد۔۔ ذریعہ یہی فنڈ ہوتا ہے جس کا ایک بڑا حصہ واشنگٹن سے موصول ہوتا ہے۔“ یہاں خود ہی ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ روس کا لبرل حزب اختلاف امریکی سامراج کا تنخواہ دار کتا ہے۔

USAIDرد انقلابی گوسانو (ہسپانوی زبان میں اس کا اصطلاحی مطلب کیڑا ہے، جس سے مراد کیوبا مخالف رد انقلابی قوتیں اور وہ افراد ہیں جو فیڈل کاسترو کے اقتدار میں آنے کے بعد کیوبا چھوڑ گئے تھے اور رد انقلابی کاروائیوں میں ملوث ہیں) میڈیا کا بھی ایک اہم سپانسر تھا جسے اب شدید جھٹکا لگ چکا ہے۔

مثلاً میامی میں موجود کیوبا نیٹ (2024ء میں اسے USAID نے 5 لاکھ ڈالر گرانٹ دی تاکہ ”جزیرے پر موجود کیوبن نوجوانوں کو غیر جانبدار اور غیر سنسر صحافت کے ذریعے راغب کیا جائے“) اور میڈرڈ میں ڈیاریو ڈی کیوبا (Madrid-based Diario de Cuba) دونوں کو آن لائن بھیک مانگتے کھلے خطوط لکھنے پڑ گئے ہیں جن میں قائرین سے فنڈ اپیل کی گئی ہے تاکہ یہ ادارے فعال رہ سکیں۔

ایسی کئی ویب سائٹس بند ہو جائیں گی۔ ٹرمپ کا حمایتی میامی ہیرلڈ (Miami Herald) کیوبن ملک بدر افراد کا میڈیا گروپ ہے جس نے USAID پر حملے کے بعد ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ، ”ٹرمپ کی خارجہ فنڈنگ کٹوتیاں چین، وینزویلا اور کیوبا کی آمریتوں کے لیے تحفہ ہیں۔“

بظاہر ایسے پلیٹ فارم پروپیگنڈہ کے خلاف نہیں ہیں لیکن امریکہ نواز پروپیگنڈہ کو منڈی میں سرفہرست رہنا چاہیے!

این جی اوز، ’سول سوسائٹی‘ اور نرم طاقت

USAID نے امریکی ’نرم طاقت‘ کے اوزار کے طور پر این جی اوز (نان گورنمنٹ آرگنائزیشنز) میں دہائیوں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ یہ بظاہر معصوم ادارے جو ”انسانی حقوق“، ”جمہوریت“ اور دیگر ایسے اوصاف کا پرچار کرتے ہیں، اس وقت ٹرمپ کی کاٹ سے قریب المرگ ہو چکے ہیں۔

وائس آف امریکہ ویب سائٹ (امریکی ریاست کی فنڈ کردہ) پر 5 فروری کی ایک رپورٹ کے مطابق USAID نے وینزویلا (جہاں بھاری امریکی پابندیوں نے محنت کشوں اور غرباء کو بھوکا کر دیا ہے) کے لیے 211 ملین ڈالر مختص کیے تھے جس میں 33 ملین ڈالر ”جمہوریت، انسانی حقوق اور انتظامی“ نگرانوں کے لیے شامل ہیں۔

ایسے ہی ایک گروپ کے قائد (اس کی 75 فیصد فنڈنگ امریکہ سے آتی ہے) نے گلہ کیا کہ: ”ٹرمپ وہ کام کر رہا ہے جو مادورو (Maduro) بھی نہیں کر سکا، یعنی سول سوسائٹی کا گلا گھونٹنا۔“

ٹیکس دہندگان کا پیسہ استعمال کر کے ”سول سوسائٹی“ کو پروان چڑھانا (یعنی حکومت مخالف حزب اختلاف کھڑی کرنا) لاطینی امریکہ میں دیرینہ سامراجی پالیسی ہے۔ ان میں سے کئی ”جمہوری“ مڈل کلاس سول سوسائٹی گروہ اس وقت بحران کا شکار ہو چکے ہیں اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ درحقیقت چھوٹے یا بڑے، ہر پیمانے پر یہ امریکی مفادات کے اوزاروں سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔ میکسیکو کے صدر آندریز مانوئل لوپیز اوبراڈور نے 2023ء میں ایک عوامی خط جاری کیا تھا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اس وقت کا امریکی صدر جو بائیڈن اس کی حکومت کی مخالفت کرنے والے سازشی گروہوں کی USAID فنڈنگ بند کرے۔ یہ کسی دیوانے کا وہم نہیں تھا۔

مثلاً 1996-2003ء کے دوران USAID نے ”دیرپاء تعمیر و ترقی“ کمپنی کیمونکس انٹرنیشنل کو 15 ملین ڈالر کا کانٹریکٹ دیا کہ بولیویا میں ”جمہوری تعمیر و ترقی اور شہری شمولیت“ کا پروگرام لاگو کیا جائے تاکہ امریکی نواز صدر گونزالو سانچیز دی لوزادا کے لیے حمایت اکٹھی کی جا سکے۔

اس دوران محنت کشوں اور کسانوں کی حمایت کردہ MAS پارٹی (سوشلزم کی طرف تحریک) کی ساکھ برباد کرنے کی کوشش کی گئی جو بولیویا کی گراں قدر معدنیات کی عالمی اجارہ داریوں کے ہاتھوں لوٹ کھسوٹ کے خلاف مزاحمت کر رہے تھے۔

2006ء میں صدر ایوو مورالیس اور MAS کی فتح کے بعد بولیویا میں USAID کی حمایت کردہ این جی اوز کی تعداد میں 6 سو سے 2 ہزار، تین گنا اضافہ ہوا اور چانک ان کی ملک میں انسانی حقوق اور ماحولیاتی اقدامات کے حوالے سے بے پناہ دلچسپی بڑھ گئی۔ مورالیس (درست قدم) نے 2013ء میں USAID کو ملکی معاملات میں مداخلت کی بنیاد پر لات مار کر نکال دیا۔

USAIDنے مشرقی یورپ میں بھی پنجے گاڑ رکھے ہیں جہاں سوویت یونین کے انہدام کے بعد مغرب نواز این جی اوز کھمبیوں کی طرح اگنا شروع ہو گئیں۔ اس وقت سب کو جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں کہ پیسہ کہاں سے آئے گا۔

مثلاً پرومو لیکس ایسوسی ایشن مولدووا میں ایک ”جمہوریت اور انسانی حقوق پسند این جی او“ ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ اس کے 75-80 فیصد پراجیکٹس کو USAID فنڈ کر رہا ہے جن میں انتخابات کی نگرانی، سیاسی فنانسنگ اور پارلیمانی نگرانی شامل ہے تاکہ ”روسی مداخلت“ کا مقابلہ کیا جا سکے۔

اس کے ڈائریکٹر ایان مانو نے ABC نیوز کو خبردار کیا کہ اس کے آپریشن متاثر ہونے کی صورت میں ”ایک مغرب مخالف حکومت برسر اقتدار آ سکتی ہے جس سے مولدووا کی یورپی راہ متاثر ہو سکتی ہے اور اہم طور پر پورے مشرقی یورپ اور بحیرہ اسود کا علاقہ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔“

چیشیناؤ (مولدووا کا دارلحکومت) میں تھنک ٹینک واچ ڈاگ کے چیئرمین والیریو پاسو نے نشاندہی کی ہے کہ امریکہ کو ”ہمارے زیادہ جمہوری اور ترقی یافتہ ہونے کا فائدہ ہوتا ہے اور یہ یقینی بنتا ہے کہ ہم روس یا چین کی ایک کالونی بن کر نہ رہ جائیں۔“

دیگر الفاظ میں مہربانی کر کے درست سیاسی مداخلت کو ختم نہ کیا جائے ورنہ نتیجہ غلط قسم کی سیاسی مداخلت ہو گا!

مشرقی یورپ میں این جی اوز کا کتنا اثر و رسوخ ہے (’روسی مداخلت‘ سے مقابلہ کا بہانہ پیش کیا جاتا ہے) اس کی ایک مثال پچھلے سال رومانیا میں دیکھی گئی۔ USAID کی فنڈ کردہ این جی او کانٹیکسٹ نے ایک دعویٰ پھیلایا کہ کریملن کی زیر حمایت سوشل میڈیا پوسٹوں کے نتیجے میں پچھلے سال صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں کالن جارجیسکو (NATO مخالف پاپولسٹ) کامیاب ہو گیا تھا۔

ان کمزور الزامات کی بنیاد پر آئینی عدالت نے نتائج منسوخ کر دیے۔ اس قدم کی وجہ جمہوریت بتائی گئی ہے۔

کئی USAID نواز این جی اوز اپنے حقیقی اہداف شخصی سیاست، حقوق نسواں، اقلیتی حقوق، LGBT حقوق وغیرہ کے لبادے میں لپٹ کر رکھتے ہیں۔ اب ان سب کو چارج شیٹ بنا کر USAID کو دفن کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ ”ووک“ (Woke) اخراجات (ووک: 1930ء کی دہائی میں پہلی مرتبہ استعمال ہونے والی اصطلاح ہے جس سے مراد سیاہ فام امریکیوں کے سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل سے آگاہی تھی۔ 2010ء کی دہائی میں اس اصطلاح کا دائرہ کار بڑھ گیا اور اس میں لبرل نظریات جیسے نسلی اور جنسی سیاست، LGBTQ حقوق، شخصی سیاست، سفید فام مراعات وغیرہ بھی شامل ہو گئے۔ لبرلز اور ڈیموکریٹس نے دانستہ حکمت عملی کے ساتھ محنت کش، طبقاتی اور انقلابی سیاست کو پراگندہ کرنے کے لیے ووک سیاست کا بے لگام استعمال کیا۔ ان نظریات پر مارکسی اور انقلابی نظریات کا لیبل لگا کر مارکسزم کو مسخ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس روش کو باقی دنیا میں بھی انہی مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ان نظریات کا پرچار کرنے کے لیے روایتی اور سوشل میڈیا، قومی اور نجی اداروں، اسکولوں، یونیورسٹیوں اور کالجوں، فلموں، ڈراموں، آرٹ وغیرہ میں پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا ہے) کو ختم کرے گا اور مسک نے USAID کا مذاق اڑایا ہے کہ یہ ”ریڈیکل لیفٹ مارکس وادی سانپوں کی کچھار ہے۔“

درحقیقت آزادی دلانے کا دعویٰ بغل میں چھپی چھری ہے جو USAID کے سامراجی مفادات اور پرچار کی محافظ ہے۔ اس کے ساتھ محنت کشوں اور ریڈیکل نوجوانوں کے غم و غصے کو ”غیر سیاسی“، ایک مسئلے پر مبنی سرگرمیوں میں دھکیل کر امریکہ نواز حکومتوں کی مخالفت کو کند اور پراگندہ کیا جاتا ہے۔ اس سارے کام کے لیے بے تحاشہ مغربی پیسہ استعمال کیا جاتا ہے جو سرگرم نوجوان کارکنوں کو کرپٹ کر دیتا ہے۔

ماہر سماجیات جیمز پیٹراس نے 1980ء اور 1990ء کی دہائیوں میں این جی اوز کی بھرمار پر لکھا ہے کہ:

”بیرونی پیسے کی دستیابی کے ساتھ این جی اوز کی بھرمار ہو گئی تو کمیونٹیاں لڑاکا گروہوں میں بٹ گئیں تاکہ اس لوٹ میں اپنا حصہ بٹور سکیں۔ ہر ’نچلی سطح کا کارکن‘ غرباء کی ایک پرت (خواتین، اقلیتی نوجوان وغیرہ) کو لے کر ایک نئی این جی او بنا کر بیٹھ گیا۔ جب کروڑوں افراد بیروزگار ہو رہے ہیں اور غربت عوام کی وسیع پرتوں میں پھیل رہی ہے تو این جی اوز روک تھام سرگرمیوں میں غرق ہیں۔ ان کی ساری توجہ عام ہڑتالوں کے بجائے ’زندہ رہنے کی تدبیروں‘ پر مرکوز ہو جاتی ہے، وہ اشیاء خورد و نوش کے ذخیرہ اندوزوں اور امریکی سامراج کے خلاف عوامی احتجاجوں کے بجائے کھانے کے لنگر لگا کر بیٹھ جاتے ہیں۔“

خیرات یا بلیک میل؟

USAIDکے علم برداروں کا مؤقف ہے کہ یہ ایجنسی پوری دنیا میں شعبہئ صحت، صاف پانی کی فراہمی، انفراسٹرکچر وغیرہ کی فنڈنگ کا 42 فیصد فراہم کرتی ہے جو اب انتشار زدہ ہو چکی ہے۔ یہ سینڈرز جیسے نام نہاد ”لیفٹ“ کی توجیہہ ہے جو لبرلوں کے ساتھ صف میں شامل ہو کر USAID اور اس کے نام نہاد ”رحم دل“ مشن کا دفاع کر رہے ہیں۔ لیکن واشنگٹن میں موجود کارنیگی اینڈومنٹ فنڈ برائے عالمی امن نے اعلانیہ اس ”انسانی فلاح“ پالیسی کی سفاک منطق کو واضح کیا ہے کہ:

”یہ ایک مضحکہ خیز سوچ ہے کہ امریکی خارجہ امداد فیاض خیرات کا کوئی میلہ ہے جس کا امریکی مفادات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ امریکی امداد کے سب سے بڑے وصول کنندہ کی فہرست ہی دیکھ لو۔۔ یہ کوئی اتفاق نہیں کہ تقریباً یہ سارے سیکیورٹی شراکت دار یا سیکیورٹی سے متعلق ممالک ہیں۔“

اس کو ایجنسی کے کام کا مثبت اور عملی دفاع بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

تاریخی طور پر USAID امداد کو استعمال کر کے اس پر منحصر غریب ممالک کو واشنگٹن کے ایجنڈہ پر غلامی کے لیے مجبور کیا جاتا رہا ہے۔ مثلاً 2006ء میں اقوام متحدہ کی ایک تحقیق کے مطابق USAID کی حمایت سیکیورٹی کونسل میں امریکی پالیسی سے مطابقت میں ووٹنگ پر منحصر تھی۔ جب یمنی حکومت نے اقوام متحدہ میں خلیجی جنگ میں امریکی سربراہی میں فوج کشی کے خلاف ووٹ ڈالا تھا تو اس وقت امریکی سفیر تھامس پکرنگ نے یمنی سفیر کے پاس جا کر اسے کہا کہ، ”تم نے اپنی تاریخ کا سب سے مہنگا ’منفی‘ ووٹ دیا ہے۔“ اس کے ساتھ ہی یمن میں USAID کی تمام امداد بند ہو گئی تھی۔

سامراج کے لبرل دھڑے کو یہ مسئلہ نہیں ہے کہ USAID بند ہو جانے کے بعد لوگ الام و مصائب کا شکار ہو جائیں گے بلکہ اصل پریشانی یہ ہے کہ امریکی دشمن سیاسی طور پر اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان الام و مصائب کو کچھ بہتر کرنے میں کردار ادا کریں گے۔ نیو یارک ٹائمز کے ایک مضمون میں اس خدشے کا اظہار ان الفاظ میں کیا گیا تھا کہ:

”امداد کی بندش کے اثرات پوری دنیا میں پڑیں گے اور چین جیسے امریکی حریفوں کو ایک موقع ملے گا کہ اپنے آپ کو ایک قابل اعتبار شراکت دار بنا کر پیش کیا جائے۔“

USAIDزیادہ تر انسانی ہمدردی کے پردے میں ایک سامراجی کھلواڑ کر رہا ہے۔ عراق، افغانستان، ہیتی، ایتھوپیا اور دیگر ممالک میں USAID کے ’انسان دوست‘ پراجیکٹ زیادہ تر ’نجی سیکٹر شراکت دار‘ جیسے کوکا کولا، بیکٹیل اور ڈو پونٹ (Bechtel and DuPon) (جس نے ویتنام میں 1960ء کی دہائی میں کیمیائی تباہ کاری پھیلانے کے لیے ایجنٹ اورینج (Agent Orange) بنایا تھا) کو دیے جا رہے ہیں۔

ان مجرموں نے USAID سے حاصل کردہ ٹیکس دہندگان کے اربوں ڈالر ہڑپ کیے ہیں۔ ایک وکی لیکس رپورٹ کے مطابق 2022ء میں USAID کی فنڈنگ کا صرف 10 فیصد ان ممالک میں استعمال ہوا جن کی امداد کے لیے رقم حاصل کی گئی تھی۔ باقی سارا پیسہ امریکہ پہنچ گیا جہاں واشنگٹن کی بڑی کمپنیوں کے اکاؤنٹس ان پیسوں سے بھر گئے۔

مخمل کا دستانہ اور لوہے کا مکا

یہ سب کچھ نیا نہیں ہے۔ خفیہ بھی نہیں ہے۔ USAID کی بنیاد 1961ء میں صدر جان کینیڈی نے رکھی تھی تاکہ ”سرد جنگ کے دوران سابق سوویت یونین کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کیا جا سکے“ (میامی ہیرلڈ اخبار) اور ابتداء سے ہی اس کے CIA کے ساتھ تعلقات رہے ہیں۔

USAIDکا ”سویلین طاقت“ تعمیر کرنے کا طریقہ کار 1960ء کی دہائی میں لاطینی امریکہ میں وسیع پیمانے پر سنوارا گیا تھا جہاں امریکی نواز سول سوسائٹی تنظیموں (ٹریڈ یونینز، مذہبی گروہ اور حقوق نسواں تنظیموں) پر تکیہ کرتے ہوئے لیفٹ ونگ پارٹیوں کو اقتدار سے باہر رکھا گیا تھا۔

1973ء میں CIA کے ایک کُو کے نتیجے میں سالویدور الاندے کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد جن این جی اوز کا نام نہاد مشن عوام کی تکالیف کا مداوا کرنا تھا انہیں جنرل پینوشے کی فوجی آمریت کے خلاف ہر ریڈیکل مزاحمت کو کند، پراگندہ اور برباد کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔

اس کے ساتھ آپریشن کونڈور (Operation Condor) بھی جاری تھا۔ یہ امریکی آشیرباد میں ایک دائیں بازو کی دہشت گردی کی لہر تھی جسے پورے لاطینی امریکہ پر مسلط کیا گیا۔ اس دوران USAID نے مبینہ طور پر CIA کے آفس آف پبلک سیکیورٹی کے ساتھ شراکت داری کی جو بیرونی پولیس کو ٹارچر کی پیچیدگیوں پر تربیت دیتا تھا۔ یہ سب کچھ 1976ء میں گورنمنٹ احتسابی آفس کی ایک رپورٹ میں درج ہے۔

USAIDاس وقت سے لاطینی امریکہ میں امریکی ’نرم قوت‘ کا ہتھیار ہے۔ مثلاً 2010ء میں USAID کے ایجنٹوں نے کیوبا میں حکومت کی تبدیلی کی کوشش میں خفیہ طور پر ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم لانچ کیا (زن زوینو) جس کا مقصد کیوبن حکومت کا خاتمہ کرنے کے لیے شورش پھیلانا تھا۔

یہ آپریشن ایک شرمناک ناکامی ثابت ہوا۔ اس کے علاوہ USAID کی کیوبا میں خفیہ ہپ ہاپ میوزک کمیونٹی میں گھسنے کی کوشش بھی ناکام ہوئی جس میں واشنگٹن میں موجود ٹھیکیدار تخلیقی ایسوسی ایٹس انٹرنیشنل (Creative Associates International) (یہ ستم ظریفی ہے کہ اس تنظیم کا مخفف بھی CIA ہے) نے ان فنکاروں کی فنڈنگ کی جو راوول کاسترو کی حکومت کے ناقد تھے تاکہ ایک ”سماجی تبدیلی“ برپاء کی جا سکے۔

بولیواری انقلاب کے خلاف واشنگٹن کی وسیع مہم کے تحت USAID نے وینزویلا میں صدر ہیوگو شاویز کو ناکام کرنے کی بھرپور کوشش کی۔

USAIDنے AFL-CIO (امریکہ کی سب سے بڑی ٹریڈ یونین فیڈریشن) سے ملحقہ اپنے یکجہتی سنٹر کے ذریعے شاویز کے خلاف 2002ء میں امریکی سرپرستی میں کو کی کوشش کی حمایت میں دائیں بازو ٹریڈ یونین افسر شاہی کو منظم کیا۔ 2013ء میں وکی لیکس کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک حکمت عملی بنی جس کی سربراہی USAID کر رہا تھا۔ اس حکمت عملی کے مطابق ”شاویز کی سیاسی حمایت میں مداخلت“، ”شاویزم کو تقسیم“ اور ”شاویز کو عالمی سطح پر تنہاء“ کرنا تھا۔

ان میں سے کئی آپریشنز (اس کے ساتھ پہلے ذکر کردہ بولیویا میں سرگرمیاں) USAID کے OTI (آفس برائے عبوری اقدامات) کی سربراہی میں کیے گئے جس کا سرکاری طور پر کئی سو ملین ڈالر کا بجٹ ہے اور اس کا کام ہیتی، لیبیا، کینیا، لبنان اور سری لنکا سمیت ایک درجن سے زائد ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔

اپنے مشن اعلامیے میں OTI نے نہایت متقی اور نرم دل ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ وہ ”کوئی قدم اٹھا نہیں سکتا یا جمہوریت لاگو نہیں کر سکتا۔۔ وہ ان کلیدی افراد اور گروہوں کی نشاندہی اور ان کی حمایت کر سکتا ہے جو پرامن، عملی اصلاحات پر قائم ہیں۔“

سادہ الفاظ میں: ہم براہ راست حکومتیں گرا کر امریکہ دوست نئی حکومتیں نہیں بنا سکتے۔۔ لیکن ہم ان کو پیسہ اور مدد فراہم کر سکتے ہیں جو یہ کام کرنے کا بیڑا اٹھاتے ہیں۔

شامی خانہ جنگی میں USAID نے وائٹ ہیلمٹس کی مالی امداد کی۔۔ ایک ”انسان دوست“ این جی او جو درحقیقت ایک پروپیگنڈہ فرنٹ ہے جس نے اسد مخالف جہادی گروہوں کے ہولناک انسان دشمن جرائم کو نظر انداز کیا جن میں وہ پیوستہ تھے۔ ان میں سب سے قابل ذکر النصرہ فرنٹ ہے۔

کتنی ان گنت مثالیں ہیں جو USAID کے حوالے سے دی جا سکتی ہیں کہ ان کی جاری کردہ تمام امداد کا اصل مقصد جنگ، بیماری اور غربت سے متاثر افراد کی مدد نہیں بلکہ امریکی سامراجی مفادات کا تحفظ ہے جو حتمی تجزیے میں ان تمام الام و مصائب کی جڑ ہے۔

ٹرمپ یہ سب کیوں کر رہا ہے؟

سرکاری طور پر کانگریس کے ذریعے ہی USAID کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے لیکن فی الحال یہ ادارہ ایک لاش بن چکا ہے۔ کام بندی کے ایک حکم نے ہزاروں ملازمین کو انتظامی چھٹی پر بھیج دیا ہے اور پیچھے محض 300 ملازمین رہ گئے ہیں۔ ٹرمپ نے مشورہ دیا ہے کہ کانگریس کی حمایت بھی درکار نہیں ہے کیونکہ USAID ”فراڈ“ کی آماجگاہ ہے اور اس کو ”ریڈیکل پاگل“ چلا رہے ہیں۔

ہمیں کوئی خوش فہمی نہیں ہے کہ ٹرمپ، روبیو یا مسک سامراج مخالف جذبات سے بھرے پڑے ہیں۔ ہمیں یاد ہے کہ 2019ء میں بولیویا (الیکٹرک بیٹریوں میں استعمال ہونے والی لیتھیئم سے مالامال ملک) میں امریکی سرپرستی میں ایک کُو کے دوران مسک نے ٹویٹر پر شیخی بھگاری تھی کہ: ”ہم ہر اس کے خلاف کُو کریں گے جس کے خلاف ہم چاہیں گے! سمجھوتا کر لو۔“

سب سے پہلا مسئلہ یہ ہے کہ امریکی قرضہ ناقابل برداشت ہو چکا ہے۔ مسک نے بڑا شور مچا رکھا ہے کہ اخراجات کو کم کرنے کے لیے وفاقی افسر شاہی کو ادھیڑ دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ وہ اور ٹرمپ MAGA حامیوں کو یہ جتا رہے ہیں کہ USAID کو بند کر کے وہ ”لبرل اچھے بچوں“ پر کاری ضرب لگا رہے ہیں۔

مسک کے پرجوش طریقہ کار کے برعکس روبیو نے جارحانہ لفاظی کو مدہم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ USAID پراجیکٹس جو امریکی قومی سیکیورٹی اور انسانی جان بچاؤ امداد کے لیے ناگزیر ہیں، انہیں اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے تحت کر دیا جائے گا۔ یعنی وہ سمجھتا ہے کہ ان آپریشنز کی امریکی خارجہ پالیسی، خاص طور پر لاطینی امریکہ میں کیا اہمیت ہے اور وہ امریکی سامراج کے مفادات سے متعلق سب سے اہم پروگراموں کو سنبھال کر رکھے گا۔ لیکن وہ ٹرمپ اور مسک کی بنیادی سوچ ’سب سے پہلے امریکہ‘ سے متفق ہے:

”ہر ڈالر جو خرچ ہوتا ہے، ہر پروگرام جو فنڈ ہوتا ہے اور ہر پالیسی جو لاگو ہوتی ہے، اس کو تین سادہ سوالوں کے ذریعے اپنی افادیت کو ثابت کرنا پڑے گا۔ کیا اس سے امریکہ زیادہ محفوظ ہے؟ کیا اس سے امریکہ زیادہ مضبوط ہے؟ کیا اس سے امریکہ زیادہ خوشحال ہے؟“

ایک صاف گو انٹرویو میں اس نے تفصیلی بیان کیا کہ دنیا کی بدلی صورتحال نے کیسے ٹرمپ کی پالیسی وضع کی ہے:

”یہ دنیا کے لیے معمول نہیں ہے کہ یہ ایک یک قطبی قوت ہو۔ یہ ایک مافوق الفطرت مظہر تھا جو سرد جنگ کے اختتام کا نتیجہ تھا۔ لیکن بالآخر ایک بین القطبی دنیا کا ابھار ناگزیر تھا، دنیا کے مختلف علاقوں میں کئی بڑی قوتیں۔ چین اور کچھ حد تک روس کے ساتھ ہمیں اسی کا سامنا ہے۔“

تمام تر لفاظی اور بھڑک بازی کے باوجود ٹرمپ جانتا ہے کہ امریکی سامراج کا نسبتی انحطاط اب ماضی کی طرح دنیا پر چوکیداری یا شاہ خرچی کی اجازت نہیں دیتا۔ ٹرمپ کے ذہن میں، اس کے الفاظ میں ”غلاظت کے ڈھیر ممالک“ پر اربوں روپیہ خرچ کرنا اس کو حاصل عوامی حمایت کے برعکس ہے۔

USAIDکو ختم کرنے کے پیچھے یہ آدھی منطق ہے۔ دوسرا حصہ ٹرمپ کی وفاقی اداروں کے خلاف جنگ سے متعلق ہے جنہوں نے اس کی پچھلی صدارت میں اس کے ہاتھ پیر باندھ رکھے تھے۔ اس نے سبق سیکھ لیا ہے اور اب فیصلہ کن طور پر وہ اپنی طاقت کو استعمال کر رہا ہے۔ ذرا سوچیں کہ اگر پچھلی ایک دہائی میں کوئی بائیں بازو کا سیاست دان یا برپاء ہونے والی تحریکیں اسی ثابت قدمی سے عمل پیرا ہونے کو تیار ہوتیں! امریکی محنت کشوں کے غم و غصے کو اسٹیبلشمنٹ کی جانب مبذول اور منظم کرنے میں ناکامی کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ٹرمپ اس میں سے کچھ حمایت اپنے مخصوص رجعتی انداز میں حاصل کر چکا ہے۔

خصی لبرلز اور اصلاح پسندوں کے برعکس ہم کمیونسٹ USAID کی موت پر آنسو نہیں بہاتے۔ ہماری بلا سے یہ ڈوب مرے یا اسے آگ لگ جائے۔ یہ ہمارا کام نہیں ہے کہ ٹرمپ کے پیروں تلے کچلے جانے والے بورژوا اداروں پر آنسو بہائیں بلکہ ہمارا کام ایک حقیقی سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ان کا خاتمہ کرنا ہے۔ ہمارے لیے حکمران طبقے کے ایک دھڑے کے لیے ٹرمپ کی شخصیت میں ہونے والے ”محلاتی انقلاب“ کی کوئی اوقات نہیں ہے۔

Comments are closed.