امریکہ اور کینیڈا کی تجارتی جنگ پر کمیونسٹ کیا کہتے ہیں؟

|تحریر: جول برگمین، ترجمہ: ولید خان|

امریکہ اور کینیڈا کے درمیان بڑھتی تجارتی جنگ نے کینیڈین سیاست میں مرکزی اہمیت حاصل کر لی ہے۔ اس صورتحال کا جو بھی نتیجہ ہو، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ہمیشہ کے لیے تبدیل ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال کا معیشت، سیاست اور طبقاتی جدوجہد پر دور رس اثر ہو گا۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

’ٹیم کینیڈا‘

تمام اہم سیاسی پارٹیوں، ٹریڈ یونینز اور کاروباری قائدین نے مکمل اتفاق رائے کے ساتھ نام نہاد ”ٹیم کینیڈا“ اتحاد بنا کر ٹرمپ کا مقابلہ کرنے کا عزم کر لیا ہے۔ اس وقت مکمل اتفاق رائے ہے کہ امریکی مصنوعات پر جوابی محصولات لاگو کی جائیں اور عوام کو ”کینیڈین خریداری“ پر راغب کیا جائے۔

ہر جگہ ہمیں یہ درس دیا جا رہا ہے کہ ہمیں اس بیرونی خطرے کا متحد ہو کر مقابلہ کرنا ہے۔ مثلاً سابق وزرائے اعظم سٹیفن ہارپر، جو کلارک، کم کیمپ بیل، جان کریتین اور پال مارٹن نے ایک کھلا خط لکھا ہے جس میں کینیڈین عوام کو قومی فخر کا اظہار کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ ٹروڈو نے کونسل برائے کینیڈین امریکی تعلقات تشکیل دی ہے جس میں کئی سیاست دان، لیبر قائدین اور سرمایہ دار شامل ہیں۔ اس کونسل کا مقصد ٹرمپ کے خلاف حکومت کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنا ہے۔

قومی فخر 58 فیصد سے 67 فیصد ہو چکا ہے اور کیوبیک میں اس کا سب سے تیز ترین اظہار 13 فیصد اضافے کے ساتھ ہوا ہے۔ ہاکی کھیل میں امریکی قومی ترانے کے دوران کینیڈین شائقین کے شور مچانے جیسے واقعات اس کا ثبوت ہیں۔

سیاسی طور پر اونٹاریو سربراہ ڈوگ فورڈ (Ontario premier Doug Ford) جیسے ٹرمپ مخالفین کی رائے شماریوں کے مطابق مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک صدی میں یہ سب سے زیادہ مقبولیت بن چکی ہے۔ معجزاتی طور پر فیڈرل لبرلز بھی ایک مرتبہ پھر زندہ ہو گئے ہیں۔ ایک وقت میں پیئر پوئلیفرے (Pierre Poilievre) کی کنزرویٹیو پارٹی کے ہاتھوں کی ان موت واقع ہو رہی تھی اور اب رائے شماریوں کے مطابق مارک کارنی کی قیادت میں یہ دونوں پارٹیاں برابر ہو چکی ہیں۔

کمیونسٹ مؤقف

کینیڈین قوم پرستی میں اس اضافے کے دو پہلو ہیں۔ ایک طرف کینیڈا میں محنت کشوں کو حقیقی خوف لاحق ہے۔ خاص طور پر کئی افراد خوفزدہ ہیں کہ ان کی نوکریاں ختم ہو جائیں گی یا صحت کا نظام برباد ہو جائے گا۔ یہ جذبات ترقی پسند ہیں۔

لیکن دوسری طرف کینیڈین حکمران طبقہ ان جذبات کو کینیڈین سرمایہ داروں کے تحفظ کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ یہ ایک رجعتی دھوکہ ہے جسے ننگا کرنے کے لیے کمیونسٹ متحرک ہیں۔

درحقیقت کینیڈین سرمایہ دار قائدین ہمارے مفادات میں کوئی دلچسپ نہیں رکھتے بلکہ بنیادی طور پر ان کے مفادات کینیڈا کے محنت کشوں کے مفادات کے یکسر مخالف ہیں۔

کینیڈا کے محنت کشوں کا مرکزی دشمن ڈونلڈ ٹرمپ نہیں بلکہ کینیڈا کا سرمایہ دار طبقہ اور اس کے نمائندے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک دشمن ہے لیکن ہم کینیڈا کے کاروباری قائدین اور بورژوا سیاست دانوں پر اعتماد نہیں کر سکتے۔ وہ اپنے تنگ نظر مفادات کے امین ہیں اور پہلی فرصت میں وہ محنت کش طبقے کی قربانی دینے پر لمحہ بھر بھی توقف نہیں کریں گے۔

ان جذبات کا سابق وزیر اعظم سٹیفن ہارپر نے اپنی نئی کتاب کی تقریب رونمائی پر کھل کر اظہار کیا کہ ”اگر میں آج وزیر اعظم ہوتا تو میں ملک کو غریب رکھنے اور مفتوح نہ ہونے کے لیے مکمل تیار ہوتا، اگر ہمارے سامنے یہی دو راستے ہوتے“۔۔ ”میں ملک کی آزادی برقرار رکھنے کے لیے ہر قسم کا نقصان برداشت کرنے کے لیے تیار ہوتا۔“

ہارپر اس لیے منہ کھول کر اپنے جذبات کا اظہار کر رہا ہے کیونکہ اسے اس ایمانداری کے سیاسی ردعمل کا سامنا نہیں کرنا۔ لیکن تمام دور اندیش نمائندوں کا یہی مؤقف ہے۔ اس کے ان جذبات پر حاضرین نے کھل کر تالیاں بجا کر سراہا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کے خیالات کو بورژوا حلقوں میں کتنی پذیرائی حاصل ہے۔

جہاں تک ٹروڈو کا تعلق ہے تو وہ محنت کش عوام کے حوالے سے پریشان ہونے کا ڈھونگ رچا رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ وہ ”کینیڈین محنت کشوں کے لیے کھڑا رہے گا۔“ لیکن اس کا اپنا ریکارڈ انتہائی داغدار ہے۔

2024ء میں ہی لبرلز نے ریلوے کے محنت کشوں، وینکوور اور مونٹریئل کی بندرگاہوں کے مزدوروں اور پوسٹل مزدوروں سے ہڑتال کرنے کا حق چھین لیا تھا۔ حیران کن طور پر یہ افراد جو کینیڈا کے محنت کشوں کے لیے مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہیں، انہوں نے پارلیمنٹ میں کسی بحث مباحثے یا ووٹ کے بغیر یہ کام کیا۔ اس سب سے بڑھ کر ریلوے کے مالکان امریکی سرمایہ دار ہیں!

اس لیے ہمیں لبرلز یا کینیڈا کے سرمایہ دار طبقے کی کسی پارٹی پر کوئی اعتماد نہیں ہے کہ وہ کینیڈا کے محنت کشوں کا تحفظ کرے گی۔

کینیڈا کی قوم پرستانہ منافقت کی انتہاء اس وقت واضح ہوئی جب اونٹاریو سربراہ ڈوگ فورڈ نے MAGA کی طرح ایک ٹوپی پہننی شروع کر دی جس پر ”کینیڈا فروخت کے لیے نہیں ہے“ لکھا ہوا تھا۔ ایک ایسا سیاست دان جو اونٹاریو گرین بیلٹ اپنے امیر ٹھیکیداروں کو بیچتا ہوا رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا، اسے شاید یہ سمجھ ہی نہیں لگی کہ اس کی ستم ظریفی کی انتہاء کیا ہے۔

اسی طرح کیوبیک کے سربراہ فرانسوا لیگالٹ نے ”کیوبیک کے دفاع“ پر بہت شور مچایا لیکن یہی وہ شخص تھا جس نے کھل کر کیوبیک کے محنت کشوں کی ایک یونین کے خلاف ایک امریکی کمپنی ABI کا ساتھ دیا جب اس کمپنی نے اٹھارہ مہینوں ان محنت کشوں پر کمپنی کے دروازے بند رکھے۔

نہیں، یہ لوگ ہمارے خیر خواہ ہر گز نہیں ہیں۔

کئی کینیڈین محنت کشوں کو یہ خوف ہے کہ ٹرمپ کی کینیڈا کو فتح کرنے کی دھمکی کا مطلب ہمارے شعبہ صحت کی تباہی ہے۔ کسی کو ایک نجی شعبہ صحت کا شوق نہیں ہے جیسا ہمارے جنوب میں موجود ہے جہاں یونائیٹڈ ہیلتھ جیسے بھیڑیے دیوہیکل منافعے لوٹ رہے ہیں اور تکلیف میں مبتلا عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔

لیکن ایک مرتبہ پھر یہاں یہ سوال ہے کہ یہ سرمایہ دارانہ سیاست دان ہمارے شعبہ صحت کا تحفظ کیوں کریں گے؟ جب ہم حقائق پر نظر دوڑاتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ یہ محب وطن کینیڈین ہی وہ افراد ہیں جو مسلسل ہمارے شعبہ صحت کا فنڈ کم، سہولیات کو ختم اور اس کی نجکاری کر رہے ہیں۔ ڈوگ فورڈ نے خود اونٹاریو (Ontario) میں جراحی کے شعبے کو نجی ملکیت میں دے دیا ہے اور البرٹا سربراہ ڈینیل سمتھ رنگے ہاتھوں البرٹا ہیلتھ سروسز کے سربراہ کو برخاست کرتے پکڑی گئی جب اس نے جراحی کے شعبے کو نجی ملکیت میں دینے کی اس کی کرپشن کا پردہ چاک کیا تھا۔

یہ واضح ہے کہ تمام تر لفاظی اور دعووں کے باوجود یہاں کوئی ”ٹیم کینیڈا“ موجود نہیں ہے۔ ایک سرمایہ داروں کا کینیڈا ہے اور ایک محنت کشوں کا کینیڈا ہے۔ اور ہم ایک ٹیم ہر گز نہیں ہیں۔

اپنے جوہر میں یہ سرمایہ داروں کے دو مختلف گروہوں کی لڑائی ہے جن میں سے ہر ایک سفاکی سے ”اپنے“ محنت کشوں کا زیادہ سے زیادہ استحصال کرنے پر تلا ہوا ہے۔ اس لیے یہ تجارتی جنگ ہماری جنگ نہیں ہے۔

جوابی محصولات اور ”کینیڈین خریدو“

تمام سیاسی پارٹیاں بحث کر رہی ہیں کہ ہمیں جوابی محصولات کی ضرورت ہے تاکہ کینیڈا میں نوکریوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ محصولات سے کوئی نوکریاں نہیں بچتیں۔ لیکن حکمران طبقے کے نکتہ نظر سے جوابی محصولات کا حقیقی مقصد منڈی میں اپنے تسلط کا تحفظ ہے۔

اکثر اوقات سب سے زیادہ تحفظ والے سیکٹر ہی کینیڈا کے محنت کشوں اور صارفین کا سب سے زیادہ سفاکی سے استحصال کرتے ہیں۔ مثلاً امریکی بینک، ائرلائنز اور ٹیلی کام کمپنیوں کا داخلہ کینیڈا کی منڈی میں ممنوع ہے۔

لیکن دیوہیکل کینیڈین ٹیلی کام کمپنیوں کے دنیا میں مہنگے ترین موبائل فون معاہدوں میں سے ایک ہیں جن کے ذریعے صارفین کو نچوڑا جاتا ہے۔ اسی طرح دیوہیکل کینیڈین بینک مہنگی ترین سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ کینیڈا کی ایک ہی قومی ایئر لائن ایئر کینیڈا کو 1980ء کی دہائی میں بیچ دیا گیا تھا اور اس وقت وہ مہنگی ہونے میں بدنام زمانہ ہے۔ انہوں نے ایک حالیہ اعلان کیا ہے کہ وہ کندھے پر لٹکانے والے سامان پر بھی قیمت لگائیں گے۔

ان صنعتوں کو ہمارے فائدے کے لیے تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا بلکہ کینیڈا کی حکومت محض اپنے دوستوں کی اجارہ داریوں کا تحفظ کر رہی ہے تاکہ وہ صارفین کا خون چوس سکیں۔

اسی طرح جوابی محصولات بھی کینیڈا کے سرمایہ داروں کا تحفظ کریں گی جو کینیڈا کے محنت کشوں اور صارفین کا استحصال کر رہے ہیں۔ جوابی محصولات درآمد مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ کریں گی جس کا تقریباً سارا بوجھ محنت کشوں اور غرباء پر ہی ہو گا۔

ہمیں تمام سرمایہ دارانہ پارٹیاں ترغیب کر رہی ہیں کہ امریکی مصنوعات کا بائیکاٹ کرو اور ”کینیڈین خریدو“۔ لیکن اس سے بھی کوئی نوکری محفوظ نہیں ہو گی۔ جوابی محصولات کی طرح صرف کینیڈا کی پیدا کردہ مصنوعات کی خریداری کینیڈا کے سرمایہ داروں کو ہی فائدہ دے گی۔ عمل میں اس کا مطلب والٹن خاندان اور وال مارٹ کی بجائے گیلن ویسٹن اور لوبلاس کی حمایت ہے۔ لیکن یہ تمام کمپنیاں ہوش ربا قیمتیں وصول کر رہی ہیں اور ان غریب خاندانوں سے دیوہیکل منافع حاصل کر رہی ہیں جو اپنی دو وقت کی روٹی پوری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کینیڈین خریداری کا مطلب کرپٹ SNC Lavalin کو انفراسٹرکچر کنٹریکٹ دینا یا بومبارڈیئر (Bombardier) سے جہاز خریدنا ہے جسے اتنے بیل آؤٹ پیکج مل چکے ہیں کہ ان کو شمار کرنا محال ہے۔

کیا ان میں سے کوئی بھی کینیڈین کمپنی ایک کینیڈا کے ایک عام محنت کش کے ساتھ امریکی کمپنیوں سے بہتر سلوک کرتی ہے؟ جب آپ اس صورتحال کا بغور جائزہ لیں گے تو یہ واضح ہو جائے گا کہ محنت کشوں کا اس جنگ و جدل سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

طبقاتی جدوجہد

اس مضمون کو لکھتے وقت محصولات لاگو نہیں ہوئے تھے۔ لیکن ایک رائے شماری کے مطابق 56 فیصد کاروباروں نے کہا ہے کہ اگر محصولات لگتی ہیں تو وہ جبری برخاستگیاں شروع کر دیں گے۔

اس کا مطلب ہے کہ لاکھوں نوکریاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔ لیکن ہمیں واضح ہونا چاہیے کہ یہ کینیڈا کے سرمایہ دار ہوں گے جو کینیڈا کے محنت کشوں کو نوکریوں سے نکالیں گے۔ یہی محبت وطن کینیڈا کے سرمایہ دار اپنے منافعوں کو محفوظ کرنے کے لیے اجرتیں اور مراعات کاٹیں گے۔

تحفظاتی پالیسیوں کی جگہ کمیونسٹ ایک آزاد طبقاتی پالیسی کی جدوجہد کرتے ہیں تاکہ نوکریوں سمیت کینیڈا کے محنت کشوں کی دہائیوں کی جدوجہد کے نتیجے میں جیتی جانے والی ترقی پسند اصلاحات کو محفوظ کیا جا سکے۔

ہم اپنے طبقے کی قوت پر ہی انحصار کر سکتے ہیں۔ اگر تجارتی جنگ کی وجہ سے کینیڈا کے سرمایہ دار فیکٹریاں بند کریں گے تو محنت کشوں کو ان فیکٹریوں پر قبضہ کرتے ہوئے محنت کشوں کے کنٹرول میں ان کو قومیانے کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ یہی ایک طریقہ کار ہے جس کے ذریعے نوکریوں کو محفوظ اور پیداوار کو جاری رکھا جا سکتا ہے۔

اگر کمپنی برخاستگیوں یا اجرتوں میں کٹوتیوں کا مطالبہ کرتی ہے تاکہ ”مسابقت محفوظ“ رہے تو کھاتے کھولے جائیں تاکہ محنت کشوں کو پتا چلے کہ چل کیا رہا ہے۔ کینیڈا کی بورژوازی کو ”کینیڈا کی خودمختاری“ کو محفوظ بنانے کا بہت شوق ہے لیکن یہ محنت کشوں کے سامنے کبھی اپنے کھاتے نہیں کھولیں گے کیونکہ ان کے لیے حقیقی خودمختاری پیداوار پر اپنی اجارہ داری قائم رکھنا اور محنت کشوں کی کمر توڑ کر اپنے منافعے لوٹنا ہے۔

امریکہ کی ایک سوشلسٹ فیڈریشن

ہم کینیڈا کے حکمران طبقے پر اعتماد نہیں کر سکتے لیکن ہمارا فطری اتحادی امریکی محنت کش طبقہ ہے۔ دونوں ممالک کے محنت کش طبقے کی تاریخ میں یکجہتی کی گہری جڑیں موجود ہیں۔ درحقیقت کینیڈا میں مرکزی ٹریڈ یونینز انٹرنیشنل ٹریڈ یونینز تھیں جنہیں امریکی ٹریڈ یونین کی تحریک نے بنایا تھا۔

اُس وقت سب سے زیادہ لڑاکا ٹریڈ یونین کارکن انڈسٹریل ورکرز آف دی ورلڈ (Industrial Workers of the World) میں منظم تھے جنہوں نے ”ایک عظیم یونین“ کی اصطلاح متعارف کرائی تھی۔ اس وقت یہ نظریہ درست تھا اور آج بھی یہ درست ہے کہ مختلف ممالک کے محنت کشوں کے درمیان عظیم اتحاد ہو۔

سرحد کے دونوں اطراف محنت کشوں کا مفاد اسی میں ہے کہ اس عالمگیریت اور طبقاتی یکجہتی کے بندھنوں کو ایک مرتبہ پھر زندہ کیا جائے۔

جب ٹرمپ امریکی کینیڈین سرحد کو ایک ”مصنوعی لکیر“ کہتا ہے تو سیاسی اشرافیہ غصے سے پھنکارنے لگتی ہے۔ لیکن ایک عجیب و غریب طریقے سے ٹرمپ درست بات کر رہا ہے۔ قومی ریاست پیداواری قوتوں کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔ ایک زیادہ بڑی معاشی اکائی زیادہ مؤثر ہو گی جس کے نتیجے میں مصنوعات اور لیبر کی آمد و رفت زیادہ آزاد ہو گی۔

لیکن سرمایہ داری کے تحت اس کا فائدہ صرف سرمایہ داروں کو ہوتا ہے۔ اس لیے ٹرمپ کا فریب ایک رجعتی خواب ہے جس میں محنت کشوں کی بھلائی کی کوئی رمق موجود نہیں ہے۔

اس امکان کو حقیقت میں تبدیل کرنے کا طریقہ کار قبضہ نہیں بلکہ کینیڈا، کیوبیک، امریکہ، میکسیکو اور امریکہ کی تمام اقوام کی ایک رضاکارانہ سوشلسٹ فیڈریشن ہے۔

Comments are closed.