|تحریر: بین کری، ترجمہ: ثاقب اسماعیل|
پچھلے ہفتے کی ایک فون کال نے دوسری عالمی جنگ کے بعد سے قائم ہونے والے نام نہاد مغربی اتحاد اور عالمی تعلقات کے نظام کے انہدام کے اشاریے دیے ہیں۔ بالکل، یہ فون کال ٹرمپ اور پیوٹن کے درمیان تھی۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
مکالمے کا آغاز محض رسمی طریقہ کار سے نہیں ہوا۔ بلکہ دونوں جانب سے یہ ایک انتہائی خوشگوار فون کال تھی۔ ڈیڑھ گھنٹے تک دونوں نے دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اپنی قوموں کے باہمی تعاون کی مشترکہ تاریخ پر گرمجوشی سے بات چیت کی اور نہ صرف امن کی طرف بڑھنے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور سیاسی تعلقات میں استحکام قائم کرنے پر بھی باہمی خواہش کا اظہار کیا۔
ٹرمپ کی اس فون کال کے بعد ایک اور کال کی گئی، جو کہ خاصی مختصر تھی، جس میں یوکرین کے صدر زیلنسکی کو ’آگاہ‘ کیا گیا کہ امریکہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات شروع کرنے جا رہا ہے، اور یہ کہ اس میں یورپی موجود ہوں گے اور نہ ہی یوکرینی۔ البتہ یہ واضح نہیں ہے کہ یہ کال کتنی خوشگوار تھی۔
ٹرمپ کے محض انہی اقدامات نے ایک جھٹکے میں واضح طور پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ ایک پراکسی جنگ ہے۔ اگر یوکرین جنگ واقعی، جیسا کہ لبرلز مسلسل یہ واویلا مچاتے آئے ہیں، ایک چھوٹی قوم کی ایک بڑی جارحانہ قوت کے خلاف اپنے دفاع کی جنگ ہے، نہ کہ پراکسیوں کے درمیان جنگ ہے، تو پھر کوئی یہ وضاحت کیسے کر سکتا ہے کہ اس جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں کوئی بھی ایک حزب مخالف قوت شامل نہیں ہو گی۔
زیلنسکی کو کم از کم ایک فون کال تو آئی۔ جبکہ دوسری طرف یورپ کا حکمران طبقہ اس سب کے بعد مکمل طور پر حیران و پریشان دیکھائی دیتا ہے۔ کچھ ہی ہفتے پہلے یوکرین کیلئے امریکہ کا خصوصی نمائندہ کیتھ کیلوگ، کیف (یوکرینی دارلحکومت) اور یورپی دارلحکومتوں کے دورے کر رہا تھا، ان کے اعلیٰ سفارتکاروں اور وزرائے اعظم کو سن رہا تھا، ان کی تجاویز پر سر ہلا رہا تھا اور روس پر سخت پابندیوں کے وعدے کر رہا تھا۔
اب یہ واضح ہو گیاہے۔۔۔یورپیوں کو شروع سے ہی بے وقوف بنایا جا رہا تھا! ٹرمپ کی ایسی کوئی نیت نہیں تھی، اور اگر کیلوگ کی بات چیت کا کوئی مقصد تھا تو وہ یہ تھا کہ یورپیوں کو جتنا ہو سکے مذاکرات کی میز سے دور رکھا جائے۔
اپنی خوشگوار بات چیت کے بعد ٹرمپ اور پیوٹن نے مذاکرات کے لیے اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ جب کیلوگ یورپ کے دورے کر رہا تھا، ٹرمپ کا ایک اور نمائندہ سٹیو وٹکوف خفیہ طور پر ماسکو میں قیدیوں کے تبادلے کے دوستانہ اقدام پر بات چیت کر رہا تھا! اس کے اعلان کے بعد امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے سب کے سامنے امریکہ کے مذاکرات کا خاکہ پیش کیا، جو کہ درج ذیل ہے:
1۔ یوکرین کو کچھ علاقے چھوڑنے ہوں گے، اور اسے 2014ء سے پہلے والی سرحدوں پر واپس جانے کا ”غیر حقیقی مقصد“ اور ”خیالی ہدف“ ترک کرنا ہو گا۔ اس کی بجائے نئی سرحدیں جنگ کے حالات کو دیکھ کر طے کی جائیں گی۔
2۔ مستقبل میں یوکرین کیلئے سیکیورٹی ضمانتوں میں امریکی فوجیوں کی موجودگی شامل نہیں ہو گی۔ بلکہ یورپی فوجیوں کو آگے آنا ہو گا، لیکن انہیں نیٹو کے آرٹیکل 5 کا تحفظ حاصل نہیں ہو گا۔
3۔ مستقبل میں امن برقرار رکھنے والی فورس میں نیٹو کے علاوہ افواج بھی شامل ہوں گی۔ حقیقت میں اس کا مطلب یہ ہو گا کی یوکرین میں روسی اتحادی فوجیں تعینات کی جائیں گی۔
4۔ یوکرین کو نیٹو میں شامل کرنے کیلئے مشرق کی طرف توسیع کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
مذاکرات میں یہ تو محض امریکہ کی ابتدائی پوزیشن ہے، اور ٹرمپ نے پہلے ہی روس کے بڑے جنگی عزائم تسلیم کر لیے ہیں جیسا کہ اس کے علاقائی مقاصد اور سب سے اہم مشرق کی طرف نیٹو کی توسیع کا خاتمہ۔
یہ وہ جنگ ہے جس میں نیٹو کو بالکل بھی دلچسپی نہیں، ایسی جنگ جس میں مغرب کو شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یوکرینی اب شکست کھا چکے ہیں۔ ان کی فوج میں سپاہیوں کی کمی ہے اور وہ حوصلہ ہار چکے ہیں۔
میدان میں داخل ہوتے ہی نئی میکانائیزڈ بریگیڈز ایک کے بعد ایک بکھر گئی ہیں۔ صورتحال اس قدر خراب ہے کہ ماہر فضائیہ کے اہلکاروں کو انفنٹری کے طور پر لڑنے کے لیے محاذ پر بھیجا جا رہا ہے۔ روس گرفت مزید مظبوط کر رہا ہے۔
مگریہ صورتحال صرف یوکرین میں مغرب کی شکست نہیں بلکہ خود ’مغرب‘ کے خاتمے کی علامت ہے۔ ٹرمپ نے اشاریہ دیا ہے کہ اسے مشرقی یورپ میں روسی اثرو رسوخ یا پورے براعظم کی تقدیر کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔تاہم نیٹو کے ایک عسکری اتحاد کے طور پروجود کا بنیادی مقصد ہی روس کو روکنا اور اسے یورپ پر اثر و رسوخ قائم کرنے سے باز رکھنا ہے۔
امریکہ کے اس جنگ سے پیچھے ہٹنے کے ساتھ، اگر چہ نیٹو ظاہری طور پر موجود ہے، لیکن عملی طور پر اس کا کردار ختم ہو چکا ہے۔
سب ایسے ختم ہوگا، کسی نے سوچا نہ تھا
اس جنگ کاحقیقی انجام اور لبرلز کے خوابوں میں اس کے انجام کے درمیان زمیں آسمان کا فرق ہے۔ یہ جنگ روس کی تباہی، پیوٹن کا زوال اور روسی فیڈریشن کے بکھرنے پر ختم ہونا تھی۔ اس کی بجائے ہم کیا دیکھ رہے ہیں۔ اس جنگ کا اختتام دوسری عالمی جنگ کے بعد سے قائم پورے ورلڈ آرڈر کااختتام بن رہا ہے۔
امریکہ اور یورپ کے درمیان دہائیوں پر محیط تعلقات پر پردہ گر رہا ہے۔ وہ تعلقات جس میں امریکہ سیاسی، معاشی اور ثقافتی اعتبار سے اپنے یورپی اتحادیوں کو ”لبرل اصولوں پر مبنی نظام (Liberal rules-based order)“ کے تحت سہارا دے رہا تھا اور جس کے بینر تلے امریکی سامراج خود کو پوری دنیا پر مسلط کر رہا تھا۔
ٹرمپ کی پالیسی کہ ”سب سے پہلے امریکہ“ کی یہ شاندار مثال ہے۔ یورپ میں امریکی مفادات باقی دنیا کی نسبت کم ہیں۔ پھر بھی امریکی جن کا وفاقی قرضہ بلند ترین سطح پر ہے، وہ نیٹو کے تحت اپنی فوجی طاقت کی وجہ سے یورپی ممالک کے صحت اور فلاحی نظام کو سہارا دے رہا ہے، مگر آخر کس لیے؟ یہی ٹرمپ کی سوچ ہے۔ یورپی صنعت اور یورپ کی ملٹری سیکیورٹی ٹرمپ کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ درحقیقت، ٹرمپ کے لئے اس سے بہت بہترپیوٹن سے گیس اور آئل کی پیداوار بڑھانے سے متعلق ڈیل کرناہے جس سے امریکہ میں انرجی کی قیمتیں کم ہو سکتی ہیں اس طرح مہنگائی کم کرنے کا ٹرمپ کا دعویٰ پورا ہو سکتا ہے۔
اس طرح ٹرمپ نے نہ صرف ٹرانس اٹلانٹک ((Transatlantic اتحاد کو توڑ دیا ہے جس نے دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد 80 سالوں سے یورپ کو سہارا دیا ہوا ہے بلکہ وہ بنیادی طور پر یورپ کے خلاف پیوٹن کے ساتھ جڑ رہا ہے۔
یورپی ممالک اجتماعی طور پر شدید ذہنی دباؤ میں ہیں، اور یہ سمجھ میں بھی آتا ہے۔ ٹرمپ اور پیوٹن کی دھماکہ خیز فون کال کی خبر کے بعد انہوں نے امید لگائی کہ وہ کچھ توجہ دوبارہ حاصل کر سکیں گے اور میونخ سیکورٹی کانفرنس میں مشترکہ امریکی -یورپی اقدار کا ڈھنڈورا پیٹ کر مذاکرات کی میز تک جگہ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
اس کے جواب میں ٹرمپ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے یورپی رہنماؤں کو ان کی توقع سے زیادہ سخت جواب دیا اور یورپ کے پورے لبرل حکمران طبقے کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔
وینس نے کہا، یورپ کے حوالے سے ”جس خطرے کی مجھے سب سے زیادہ فکر ہے، وہ نہ روس ہے اور نہ ہی چین بلکہ یہ خطرہ اندر سے ہے۔“ یہاں تک کہ وہ بہ آسانی اپنے سامعین یورپی رہنماؤں کی طرف اشارہ کر کے کہہ سکتا تھا، ”تم ہی اصل خطرہ ہو!۔“
اگر چہ اس کی پوری تقریر ثقافتی جنگ کی روایتی بیان بازی پر ہی مشتمل تھی، لیکن اس کا پیغام بالکل واضح ہے۔ ٹرانس اٹلانٹک اتحاد بالکل ختم ہو چکا ہے، اور سے برقرار رکھنے کے لیے ’مشترقہ اقدار‘ کے بینر تلے چھپنے کا بھی کوئی موقع نہیں ہے۔ اس نے یورپی یونین کے منافقانہ نام نہاد ’جمہوری اقدار‘ کو نشانہ بنایا۔ جب وہ یورپی کمیشن پر رومانیہ میں انتخابات پلٹنے کا الزام لگا رہا تھا تو اس کے لہجے سے طنز صاف جھلک رہا تھا: ”اگر آپ کی جمہوریت بیرونی ملک کی چند لاکھ ڈالرز کی ڈیجیٹل اشتہار بازی سے تباہ ہو سکتی ہے تو یہ شروعات سے ہی زیادہ مظبوط نہیں تھی۔“
پوری تقریر توہین آمیز لہجے سے بھرپور تھی خصوصی طور پر جرمنوں کے لیے کیونکہ وینس نے واضح کر دیا کہ ٹرمپ انتظامیہ اس ہفتے کے آخر میں آنے والے الیکشن میں دائیں بازو کی انتہاپسند پارٹی AFD کی حمایت کر رہی ہے۔
بجائے اس کے یہ کانفرنس یورپیوں کے سیاسی طاقت کے اظہار کا ذریعہ بنتی، اُلٹا اس کا اختتام چیئرمین کے آنسو بہانے پر ہوا۔
یورپ کی طاقت دکھانے کی بھونڈی اور ناکام کوشش
ریاض میں مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے۔ مذاکرات کے پہلے دن امریکیوں اور روسیوں نے معاہدے میں خلل پیدا کرنے والے عناصر کو دور کرنے پر اتفاق کیا۔۔۔جوکہ زیلنسکی، سٹارمر، میکرون اور باقی گروہ کو حوالہ دینے کا ناشائستہ طریقہ ہے، اور یہ سب ہماری طرح مذاکرات کی کاروائی میڈیا کے ذریعے ہی دیکھ رہے تھے۔
یقینی طور پر یوکرینی اور یورپی اپنے آپ کو خلل پیدا کرنے والے عناصر بنا چکے ہیں۔ اس سے زیادہ وہ کر بھی کیا سکتے ہیں! زیلنسکی نے اس تقریب میں شامل ہونے کی بے سود کوشش کی۔ ناکامی کے بعد پھر اُس نے ترکی میں میڈیا سے بات چیت کی۔
ٹرمپ نے زیلنسکی کو واضح جواب دیا کہ اُسے اس بات پر ہرگز حیران نہیں ہونا چاہیے کہ مذاکرات میں دعوت نہیں دی گئی، کیونکہ اس کے پاس 2022ء سے پہلے روسیوں سے مذاکرات کے لیے کئی سال تھے، جس میں وہ ناکام رہا۔ اگر وہ یوکرین کو نمائندگی کے لیے جائز آواز دینا چاہتا ہے تو ٹرمپ نے ا سے مشورہ دیاکہ وہ یوکرین میں نئے انتخابات کروائے، جو کہ جنگ کے دوران معطل کر دیے گئے تھے۔
اسی دوران، امریکیوں اور یورپیوں تک اپنی آواز پہنچانے کی کوششوں میں میکرون نے ایلیزے پیلس میں یورپی طاقتوں کی ہنگامی کانفرنس بلوائی۔۔۔لیکن یہ تمام یورپی طاقتوں کی کانفرنس نہیں تھی بلکہ صرف ان ممالک کو بلایا گیاجو ایک جیسا موقف رکھنے کا امکان رکھتے ہوں۔ مثال کے طور پر ہنگری کے اوربان یا سلوواکیہ کے فیکو کو کوئی دعوت نامہ نہیں بھیجا گیا۔
اور یہ اتحاد دکھانے کا شو کیسا رہا؟ انتہائی مضحکہ خیز۔ اس نے یورپی براعظم کی مکمل تقسیم اور بے بسی کو بے نقاب کر دیا۔
امریکیوں نے یورپیوں سے کہا تھا کہ وہ یوکرین کی سیکورٹی کے لیے بطور امن فوج آگے بڑھیں اور نئی سرحدوں کی حفاظت کریں، لیکن یورپی اس نقطے پر بھی متفق نہیں ہو سکے۔ اٹلی سے میلونی کانفرنس میں دیر سے پہنچی۔ جرمنی سے شولز تو یہاں تک ناراض تھا کہ آخر یہ معاملہ زیر بحث ہی کیوں آ رہا ہے، اور پھر وہ جلدی سے چلا گیا۔ یہاں تک کہ جارحانہ موقف رکھنے والے پولینڈ نے بھی امن فوج بھیجنے سے گریز کا اظہار کیا۔
صرف میکرون اور سٹارمرہی اتنے بیوقوف تھے کہ انہوں نے فوجیں بھیجنے پر رضامندی کا اظہار کیا۔ لیکن یہ محض زبانی دعوے تھے، کیونکہ سٹارمر نے اپنی یقین دہانی اس شرط پر کی کہ امریکی فوج کو بیک سٹاپ یعنی کہ آخری سہارے کے طور پر بھیجا جائے گا۔ اور یہ وہ چیز ہے جس کوٹرمپ پہلے ہی مسترد کر چکا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ برٹش آرمی اتنی قابل رحم حالت میں ہے کہ یہ بھی مشکوک ہے کہ سٹارمر چاہتے ہوئے بھی فوجیں بھیج سکتا ہے کہ نہیں۔ ریٹائیرڈ برطانوی جرنیلوں نے یہ نقطہ اٹھایاہے کہ ایسے آپریشن کے لیے کم ازکم 30 ہزار برٹش سپاہیوں کی ضرورت ہو گی۔ لیکن چونکہ مجموعی طور پر برطانیہ کے پاس70 ہزار فوجی ہیں، لیکن ان میں سے بھی کئی دفتری عملے پر مشتمل ہیں،تو اس کا مطلب یہ ہو گا برطانوی فوج کا بیشتر حصہ یوکرین میں تعینات کرنا ہو گا۔
روسی وزیر خارجہ لاوروف نے یہ واضح کر دیا کہ جنگ کے بعد یوکرین میں یورپی فوجوں کی موجودگی قابل قبول نہیں ہو گی۔ اور جب یورپی خود آپس میں اس سوال پر راضی نہیں ہو سکے، تو اس کے نتیجے میں امریکیوں کیلئے لاوروف کی شرائط ماننا کافی آسان ہو چکا ہے۔
یقیناً، یورپی اس بات پر متفق ہو گئے ہیں کہ وہ اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ کریں گے، جو کہ ٹرمپ کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے۔لیکن اس پر بھی اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ میکرون چاہتا ہے کہ تمام ممالک مل کر قرض لیں اور اسلحہ پر خرچ کریں، لیکن جرمن حکمران طبقہ اس کے لئے پیسے دینے کو تیار نہیں ہے۔
مگر یہ اسلحہ آئے گا کہاں سے؟ اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ یورپی ممالک اپنے مفادات کے لیے امریکہ پر منحصر نہیں رہ سکتے۔ اس کا واحد حل یہ ہو گا کہ وہ ایک خودمختار ایرو سپیس انڈسٹری قائم کریں جو امریکی معیارات، سافٹ وئیر اور تکنینی مدد سے آزاد ہو۔ یہ میکرون کی تجویز ہے۔ لیکن دیگر یورپی ممالک کو اس میں زیادہ دلچسپی نہیں۔ ٹرمپ نے واضح کر دیا کہ یہ کوئی بہتر آپشن نہیں ہے۔ اگر یورپی ممالک اپنے حق میں بہتر فیصلہ کرنا چاہتے ہیں تو وہ امریکی ساختہ ہتھیار خریدیں گے، اور انہی بڑی مقدار میں خریدیں گے، اور اسی طرح وہ ہمیشہ امریکی دفاعی صنعت کے ساتھ جڑے رہیں گے۔
یورپ کا کھیل ختم
اس سب کا مطلب کیا ہے؟ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ہونے والے حیرت انگیز واقعات، جو کہ دنیا کو نئی شکل دے رہے ہیں، درحقیقت یہ سب پچھلے کئی دہائیوں سے چلے آ رہے عمل کا نقطہ عروج ہے۔
2008ء کے بعد سے سرمایہ دارانہ نظام یکے بعد دیگرے کئی بحرانوں کا شکار ہے، جب ریاست نے معاشی بحران کے بعد نظام کو مکمل بحران سے بچانے کے لیے مداخلت کی تھی۔ اس دوران دیوہیکل اور ناپائیدار قرضے جمع ہو گئے تھے۔ نئے بحران جیسا کہ کرونا وبا نے اس بوجھ میں اور اضافہ کیا جو کہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ وہ قیامت کا دن جب یہ قرضے واپس کرنا ہوں گے، مسلسل ملتوی کیا جا رہا ہے، بظاہر لامتناہی دور کے لیے۔
اسی دوران، امریکہ کا اثر و رسوخ بھی آہستہ آہستہ کم ہو رہا ہے اور وہ ایک طویل عرصے تک نسبتی زوال کا شکار ہے۔کیونکہ نئے حریف جیسا کہ روس اور چین سامنے آ کر اس کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
یہ عوامل ایک لمبے عرصے تک بغیر کسی بنیادی تبدیلی کے جاری رہ سکتے ہیں۔ لیکن آخرکار سب کچھ ایک ساتھ پھٹ پڑتا ہے۔ ایک اہم موڑ آجاتا ہے۔اور ہم ابھی اسی گہری تبدیلی کے موڑ سے گزر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے امریکی سامراج کی پرانی پالیسی کو مکمل طور پر بدل دیا ہے، جو پالیسیاں کئی سالوں سے حقیقت سے بہت دور تھیں۔ ’لبرل اصولوں پر مبنی نظام‘ جس کے ذریعے امریکہ نے دنیا بھر میں اپنی حکمرانی قائم کرنے کی کوشش کی، مکمل طور پر ناکارہ ہو چکا تھا۔
ٹرمپ کی پالیسی کٹوتی اور الگ تھلگ رہنے کی حمایت کرتی ہے۔ اس میں یورپی سرمایہ داری کی حمایت سے دستبردار ہونا ہے، جس کی حیثیت امریکی مفادات کے سامنے ثانوی بن گئی ہے۔ یورپ کی سیکورٹی، اس کی معیشت، اس کی سیاست، یہاں تک کہ اس کی ثقافت 80 سالوں سے امریکی محور کے گرد تھے۔ امریکہ کے پاس یورپ کے مقابلے میں زیادہ اہم کام ہیں۔ امریکی حمایت کے بغیر یورپ جیسا کہ ہم نے پہلے بتایا، اب مکمل طور پر غیر محفوظ ہو چکا ہے۔
اگرچہ نیٹوختم نہیں ہوا، مگر اب یہ بغیر جان کے ڈھانچہ بن کر رہ گیا ہے۔ اس لیے یورپی ممالک مزید قرضہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ تیز رفتار فوجی تیاریوں کے لیے پیسہ اکھٹا کر سکیں، اور وہ مایوسی کے عالم میں کسی راستے کی تلاش میں ہیں۔ لیکن صرف چند دنوں نے یہ واضح کر دیا کہ یورپی سرمایہ داری کو کیا چیز روکتی ہے: یہاں چھوٹی معیشتیں ہیں جو دنیا میں مقابلہ نہیں کر سکتیں، ان کا اثر و رسوخ کم ہے، اور ہر ملک کے اپنے مفادات ہیں جو امریکی حمایت کے بغیر تیزی سے بھٹک جاتے ہیں، جیسے جیسے ہم آگے بڑھیں گے یہ چھوٹے چھوٹے ممالک مختلف راستوں پر چلیں گے۔
ماضی میں، یورپی یونین، یورپی سنٹرل بنک وغیردیوالیہ پن کا شکار ان ممالک کو بیل آؤٹ کرتے تھے تاکہ یورپی یونین میں جڑت پیدا کی جا سکے، ہم نے یہ یورو زون کے قرض کے بحران کے دوران دیکھا تھا، حال ہی میں ہم نے یہ کرونا وبا کے بعد بحالی پروگرام کے دوران دیکھا۔ مثال کے طور پر اٹلی میں بڑے پیمانے پر رقم کی منتقلی کی گئی تاکہ اسے یورپی یونین میں برقرار رکھا جا سکے، کیونکہ اٹلی یورپی یونین کے ان ممالک میں تھا جو دیوالیہ پن کے قریب تھے، جبکہ اٹلی کی برادرز آف اٹلی پارٹی اقتدار حاصل کرنے کے قریب تھی۔
لیکن کیا وہ یہ دوبارہ کر پائیں گے؟ یورپ کے حلقوں میں یہ سوچ بڑھ رہی ہے کہ انہیں سب سے پہلے خود کو بچانا چاہیے، چاہے اس کے لئے باقی براعظم کو نقصان پہنچانا پڑے۔ ہم مستقبل میں ’جرمنی پہلے‘، ’فرانس پہلے‘ جیسے خیالات کو بڑھتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ آنے والے سالوں میں یورپی یونین کا مکمل طور پر ٹوٹنا بھی ممکن ہے۔
جب ٹرمپ روس پر پابندیاں ہٹانے کی بات کر رہا ہے تو اس نے یورپ پر ٹیرف لگانے کی دھمکی کو نہیں چھوڑا۔ امریکیوں کے بغیر، روس اب یورپ کے کنارے پر بڑی فوجی طاقت بن چکا ہے۔ اور اب وہ بھی اس کے بدلے قیمت وصول کرے گا۔ یہ چھوٹے ممالک بڑی طاقتوں جیسا کہ امریکہ، چین اور روس کے ہاتھوں تنگ ہوں گے۔
یورپ ایک ایسا براعظم ہے جہاں سرمایہ دارانہ نظام نے جنم لیا، اب سرمایہ داری کی موت کی تکلیف کے دوران یورپ خود کو اس طوفان کے مرکز میں پا رہا ہے۔ جہاں اس نظام کے تحت کوئی مستقبل نظر نہیں آ رہا اور وہ آہستہ آہستہ تباہ ہو رہا ہے۔
اس سب کے یورپ پر دیوہیکل سماجی اثرات ہوں گے۔ یورپ قرض بحران میں گھِرا ہوا ہے، جبکہ اس میں نئے دفاعی اخراجات کا اضافہ ہونا باقی ہے۔ حکمران طبقہ جانتا ہے کہ اسے کیا کرنا ہے: اسے محنت کش طبقے پر خوفناک حملے کرنے ہوں گے۔ مگر میکرون کم و بیش ختم ہو چکا ہے۔ برطانیہ میں ریفارم پارٹی پولز میں سب سے آگے ہے۔ اور جرمنی میں اے ایف ڈی دوسرے نمبر پر آنے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہی صورتحال دوسرے ملکوں کی بھی ہے۔
ان پارٹیوں کا اُبھرنا سماج میں محض دائیں جانب جھکاؤ کی علامت نہیں ہے۔ بلکہ یہ اس بات کا اظہار ہے کہ سماج میں حکمران طبقے اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف شدید غصہ بڑھ رہا ہے۔ بائیں بازو کا کوئی متبادل نہ ہونے کی وجہ سے یا بائیں بازو کی غداریوں کی وجہ سے جو 2008ء کے بعد سے لبرلز کے ساتھ جڑ چکے ہیں، اسے ممکن بنایا ہے۔ لیکن یہ پورے براعظم میں بائیں بازو کی طرف نئے اور زیادہ شدید جھکاؤ کے لئے زمین تیار کرے گا، اور انقلابی تبدیلیوں کا باعث بنے گا جو یورپ میں سرمایہ داری کی بنیادوں کو ہلا کے رکھ دے گا، وہ بنیادیں جو اب دراڑوں کا شکار ہو چکی ہیں۔