|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی|
انقلابی کمیونسٹ پارٹی نے ہراسمنٹ، ریپ، پدر شاہی، گھریلو غلامی، غربت، مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف محنت کش خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے 20 فروری سے لے کر 8مارچ تک ملک گیر سطح پر سرگرمیوں کا انعقاد کیا۔ پاکستان کے کم و بیش 14 شہروں میں پارٹی کے کارکنان نے سیمینار، احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کا انعقاد کیا جن میں طلبہ، محنت کشوں اور خواتین نے شرکت کی۔ جن شہروں میں ان سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا ان میں لاہور، اسلام آباد، فیصل آباد، کراچی، کوئٹہ، پشاور، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، دادو، راولاکوٹ، علیسوجل، شجاع آباد، قصور، پتوکی اور گوجرانوالہ شامل ہیں۔
انقلابی کمیونسٹ پارٹی نے 8مارچ کے دن کے لیے لیف لیٹ بھی شائع کیا جس میں محنت کش خواتین کے مسائل کا انقلابی حل پیش کیا گیا۔ سوشل میڈیا پہ بھی محنت کش خواتین کے عالمی کے لیے بھرپور کمپیئن کی گئی اور مختلف اداروں کی محنت کش خواتین اور طلبہ نے ان سرگرمیوں میں خود شامل ہونے کا دعوی کیا اور دوسرے محنت کشوں اور طلبہ کو بھی شرکت کی دعوت دی۔
پاکستان میں خواتین کے مسائل میں مسلسل خوفناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ہر روز سینکڑوں خواتین ریپ اور ہراسمنٹ کا شکار ہوتی ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کے تحت معاشی جبر بڑھتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے محنت کش طبقے کی خواتین سب سے زیادہ پستی ہیں۔ غیرت کے نام پر قتل، خواتین کی چھوٹی عمر میں شادی یا زبردستی کی شادی پاکستان میں ایک معمول بن چکا ہے۔ حکمران طبقہ صحت اور تعلیم جیسی بنیادی ضرورتوں پر مسلسل حملے کر رہا ہے اور محنت کش طبقے کو ان سے محروم کر رہا ہے، جس میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی خواتین ہیں۔اسی طرح صنفی اور جنسی بنیادوں پر خواتین کے ساتھ جبر اپنے عروج پر ہے۔ اس کے علاوہ بے تحاشا ایسے مسائل موجود ہیں جنہیں محنت کش خواتین کو روز جھیلنا پڑتا ہے لیکن ان مسائل پر یا ان کے حل پر کبھی کوئی سنجیدہ بات یا پروگرام نظر نہیں آتا۔
ایسے میں انقلابی کمیونسٹ پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ محنت کش طبقے کے مجموعی اور محنت کش خواتین کے مسائل کی اصل جڑ یہ سرمایہ داری ہے جو طبقاتی نظام اور پدر شاہی کو بنیاد فراہم کرتا ہے۔محنت کش طبقے اور محنت کش خواتین کے مسائل کا خاتمہ اس نظام کے خاتمے کے ساتھ جڑا ہو اہے۔محنت کش خواتین کے عالمی دن پر انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے ملک گیر سرگرمیوں کے انعقاد کا مقصد بھی یہی تھا کہ اول تو 8 مارچ کی حقیقی تاریخ کو خواتین تک پہنچایا جائے، جسے حکمران طبقہ، اس کا پالتو میڈیا، ملا،فیمنسٹ اور لبرلز حکمرانوں کی آشیرباد سے مسخ کرتے ہیں اور دوسرا مقصد یہ اعلان کرنا تھا کہ انقلابی کمیونسٹ پارٹی محنت کش طبقے اور محنت کش طبقے کی خواتین کی طبقاتی نظام اور پدرشاہی کے خلاف لڑائی کو سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے تک جاری رکھے گی۔ اس کرۂ ارض سے سرمایہ داری کی غلاظتوں کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر کے ایک سوشلسٹ سماج قائم کرے گی۔ ہم تمام محنت کشوں، نوجوانوں، خواتین اور طلبہ کو اس جدوجہد میں انقلابی کمیونسٹ پارٹی کا حصہ بننے کی دعوت دیتے ہیں۔
انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے 8 مارچ محنت کش خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے ملک گیر سطح پر منعقد کی جانے والی سرگرمیوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔
لاہور
لاہور میں 20 فروری کے دن انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے ساتھیوں نے جی سی یونیورسٹی کے سامنے احتجاج منظم کیا جس میں مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ کے ساتھ مختلف اداروں کے محنت کشوں اور خواتین نے شرکت کی۔ احتجاج کے دوران طلبہ نے تقریریں کیں اور سرمایہ داری، طبقاتی نظام، پدر شاہی اور حکمرانوں کے خلاف بھرپور نعرے لگائے۔ اس کے علاوہ 8 مارچ کے دن بھی لاہور میں انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے مرکزی دفتر میں محنت کش خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے سیمینار منعقد کیا گیا۔
اسلام آباد
اسلام آباد میں 22 فروری کو مثنوی کیفے ہاسٹل سٹی میں ”پاکستان کا سماج اور خواتین: یہیں سے اٹھے گا شورِ محشر“ کے عنوان سے سٹڈی سرکل کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں مختلف اداروں کے طلبہ نے شرکت کی۔
فیصل آباد

فیصل آباد میں 20 فروری کو ضلع کونسل تا پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی گئی اور اس ریلی میں محنت کش خواتین کے مسائل پر طلبہ کے جانب سے تقریریں کی گئیں اور ان مسائل کا انقلابی حل پیش کیا گیا۔
کراچی
کراچی میں 20 فروری کو کراچی یونیورسٹی میں ایک سٹڈی سرکل رکھا گیا۔ اس سرکل میں محنت کش خواتین کے عالمی دن کی تاریخ، ان کے مسائل اور حل پر بات چیت رکھی گئی۔
کوئٹہ
کوئٹہ میں 8 مارچ کے دن انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے ریجنل آفس میں ”خواتین کے حقوق کی جدوجہد اور انقلابی حل“ کے عنوان سے سیمینار منعقد کیا گیا۔ یہ سیمینار بلوچستان کے لاپتہ افراد کے لواحقین (خواتین) کی جدوجہد کے ساتھ منسوب کیا گیا تھا جس میں مختلف ٹریڈ یونینز کے مزدور ساتھیوں، طلبہ اور خواتین نے شرکت کی۔
پشاور
پشاور میں 20 فروری کو پشاور یونیورسٹی کے اندر سٹڈی سرکل کا انعقاد کیا گیا۔ اس سٹڈی سرکل میں طلبہ اور محنت کشوں نے بھرپور شرکت کی اور محنت کش خواتین کے مسائل اور ان کے انقلابی حل پر مفصل بات کی گئی۔
بہاولپور
بہاولپور میں 20 فروری کو بہاولپور پریس کلب میں سیمینار منعقد کیا گیا جس میں طلبہ اور محنت کشوں نے شرکت کی۔ اس سیمینار میں محنت کش خواتین کے مسائل اور ان کے حل پر تفصیلی بات رکھی گئی اور سیمینار کے آخر میں اگیگا کے محنت کشوں کی جاری جدوجہد میں ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار بھی کیا گیا۔
ڈیرہ غازی خان
ڈیرہ غازی خان میں 20 فروری کو ”خواتین کے حقوق کی آزادی اور کمیونزم“ کے نام سے سیمینار منعقد کیا گیا جس میں طلبہ اور محنت کشوں نے شرکت کی۔ سیمینار کے بعد خواتین کے مسائل کے خلاف احتجاج بھی کیا گیا۔
دادو
دادو میں 20 فروری کو سندھ یونیورسٹی دادو کیمپس میں ”پدرشاہی اور صنفی جبر کے خاتمے کا کمیونسٹ حل“ کے عنوان سے سٹڈی سرکل رکھا گیا۔ اس میں یونیورسٹی کے طلبہ نے بھرپور شرکت کی اور محنت کش خواتین کے مسائل اور ان کے حل پر تفصیلی بحث کی گئی۔
راولاکوٹ
راولاکوٹ (’آزاد‘ کشمیر) میں 22 فروری کو ”خواتین کے مسائل اور عوامی تحریک“ کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ اس سیمینار میں محنت کشوں اور طلبہ نے شرکت کی۔
علیسوجل
علیسوجل (’آزاد‘ کشمیر) میں ”عالمی و ملکی صورتحال اور محنت کش خواتین کا عالمی دن“ کے عنوان سے سٹڈی سرکل منعقد کیا گیا جس میں طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
شجاع آباد
23 فروری کو شجاع آباد کے نواحی گاؤں میں کسان خواتین کے ساتھ ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروگرام میں کسان خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور ان کے مسائل پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ کسانوں کے مسائل کے حل کی جدوجہد کو مزدوروں کی جدوجہد کے ساتھ جوڑنے پر بھی تفصیلی بات کی گئی۔
قصور
قصور میں 22 فروری کو محنت کش خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے سیمینار منعقد کیا گیا۔ اس سیمینار میں طلبہ اور محنت کشوں نے شرکت کی۔
پتوکی
پتوکی میں 23 فروری کو محنت کش خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے سیمینار منعقد کیا گیا جس میں طلبہ اور محنت کشوں نے شرکت کی۔
گوجرانوالہ
گوجرانوالہ میں 28 فروری کو یونائیٹڈ گرلز کالج (جی ٹی روڈ، کامونکی) میں ”خواتین کے مسائل اور ان کا انقلابی حل“ کے عنوان سے سیمینار منعقد کیا گیا۔ اس سیمینار میں طلبہ اور محنت کشوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔