|تحریر: جیمز کلبی، ترجمہ: آصف لاشاری|

18 مارچ، بروز منگل کو اسرائیلی فورسز نے پورا دن غزہ کے نہتے لوگوں پر بموں کی بارش کی اور تباہی و بربادی کی نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے، کھوکھلی جنگ بندی کو تہس نہس کر ڈالا۔ ان حملوں میں 400 سے زائد فلسطینی شہید ہوئے جبکہ 600 سے زیادہ زخمی ہوئے۔یہ 2023ء کے اواخر سے اب تک کا اسرائیل کی جانب سے نسل کشی کے سلسلے کا انتہائی خونریز دن تھا۔
اپنے روایتی انداز میں اسرائیل نے حماس پر جنگ بندی معاہدہ توڑنے کا الزام لگا کر اپنی حالیہ بمباری کو جائز قرار دیا۔ لیکن حقائق کچھ اور ہی کہانی پیش کرتے ہیں۔
یہ مضموں انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں!
جنوری میں طے پانے والا جنگ بندی معاہدہ تین مراحل پر مشتمل تھا۔ پہلا مرحلہ جو فروری میں مکمل ہوا اس میں حماس نے 33 اسرائیلی یرغمالیوں کو 1900 فلسطینی’قیدیوں‘ جو کہ دراصل اسرائیل کی جیلوں میں یرغمال ہی تھے، کے بدلے میں رہا کیا۔ دوسرے مرحلے میں اسرائیل کے غزہ سے مکمل طور پر انخلاء اور حماس کی جانب سے باقی کے تمام یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ کے مکمل خاتمے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ تیسرے مرحلے میں لاشوں کی واپسی اور غزہ کی تعمیر نو شامل تھی۔
لیکن، یکم مارچ کو پہلے مرحلے کے اختتام کے بعد سے، اسرائیل نے دوسرے مرحلے غزہ سے اسرائیلی دفائی فورسز کے وعدہ شدہ انخلا پر عمل کرنے سے انکار کر دیا: خاص طور پر مصر کے ساتھ اپنی سرحد کے ساتھ فلاڈیلفی کوریڈور سے IDF کے انخلا سے مکمل انکار کیا۔اس کے علاوہ، نتن یاہو نے معاہدے کی شرائط ہی بدل دیں، حماس سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام باقی یرغمالیوں کو فوراً واپس کرے،اس کے بدلے میں جنگ کا مکمل خاتمے کے لیے نہیں، بلکہ محض 30 سے 60 دن کی جنگ بندی کی جائے گی۔ دوسرے الفاظ میں، اس نے حماس کو ایک ایسی پیشکش کی جسے وہ صرف مسترد ہی کر سکتی تھی۔
دریں اثنا، نتن یاہو نے مارچ کے شروع میں ہی غزہ میں تمام امدادی سامان کی ترسیل کو روکنے اور غزہ کو جانے والی آخری بجلی لائن کو کاٹنے کا حکم دیا۔ اسرائیلی حکام اب غزہ کی پانی کی فراہمی کے بچے کھچے حصے کو بھی منقطع کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ ایسا کرکے انہوں نے متفقہ جنگ بندی کا مذاق اڑایا اور فلسطینیوں کو بھوکا مار کر جھکانے کی کوشش کی۔
قتل عام کے دوبارہ آغاز پر لبرل اسٹیبلشمنٹ کی خاموشی ایک دفعہ پھر ان کی منافقت کو عیاں کرتی ہے۔ ان جنگی جرائم کے ردعمل میں ان کی طرف سے اب کہیں پر کوئی سربراہی کانفرنسیں کیوں نہیں ہو رہیں؟ فلسطینی عوام کی حفاظت کے لیے ’امن فوج‘ بھیجنے کے ان کے منصوبے کہاں ہیں؟ جب کہ وہ یوکرین میں ’خود ارادیت‘ کے تحفظ کے لیے سینکڑوں ارب ڈالر خرچ کرنے کو تیار ہیں، اسرائیل ان کا اتحادی ہے، اس لیے جو چاہے کر سکتا ہے۔
نیتن یاہو کی اقتدار کو بچانے کی تگ و دو
جب 17ماہ پر محیط تنازعہ ختم ہونے کے قریب آرہا تھا، تو نیتن یاہو نے اب جنگ بندی کے معاہدے کو کیوں توڑا؟
یاد رہے کہ اب تک کے تنازع کے ہر مرحلے پر، نتن یاہو نے حماس کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کی مخالفت کی، اس کے لیے ہر قسم کے بہانے بنائے۔ یہ صرف جنوری کے آغاز میں ٹرمپ کی مداخلت تھی جس نے نتن یاہو کو معاہدے پر دستخط کرنے پر مجبور کیا۔
تاہم، نتن یاہو نے واضح کیا کہ وہ جنگ بندی کے ’دوسرے مرحلے‘ کے خلاف ہے۔ اگرچہ وہ فلسطینی قیدیوں کے بدلے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کو قبول کر سکتا تھا، لیکن وہ جنگ کے خاتمے کو قبول نہیں کر سکتا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی سیاسی بقا کا انحصار اسی تنازعے پر ہے۔ امیر تیبون نے 25 جنوری کو ہاریٹز میں لکھا کہ ”۔۔۔ وہی نتن یاہو جس نے بالآخر معاہدے پر دستخط کیے، اپنے ملکی سیاسی اتحادیوں کو بتا رہا ہے کہ اس کا اسے نافذ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔“
اسرائیلی نیشنل سیکورٹی کونسل کے سابقہ ڈپٹی ہیڈ ایتامار یار نے وضاحت کی کہ ”جنگ کے جاری رکھنے میں نیتن یاہو کا ذاتی فائدہ ہے“ اور ”اسے جنگ ختم کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔“

حتیٰ کہ 07 اکتوبر 2023 ء سے پہلے بھی نیتن یاہو کو کئی بحرانوں کا سامنا تھا۔ وہ وزیر اعظم کے منصب کی وجہ سے کرپشن کے درجنوں مقدمات پر عدالتی کاروائی کو ملتوی کرتا جا رہا تھا۔ چونکہ اس کی پار ٹی کی مقبولیت کم ہو رہی تھی، اس لیے وہ اپنی کمزور مخلوط حکومت کو سہارا دینے کے لیے انتہائی دائیں بازو کے صیہونی انتہا پسندوں پر زیادہ انحصار کرنے پر مجبور ہو گیا۔ عدالتی اصلاحات کے ذریعے اقتدار کو مزید مضبوط کرنے کی اس کی کوششوں نے 2023ء کے موسم بہار میں ایک وسیع پیمانے پر احتجاجی تحریک کو جنم دیا، جو اس کی حکومت کو گرانے کے قریب پہنچ گئی تھی۔
لیکن جب تک اسرائیل جنگ میں مصروف رہا، پہلے حماس اور غزہ کے عوام کے خلاف، اور بعد میں لبنان میں حزب اللہ کے خلاف بھی، نتن یاہو اپنے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے اور یہودی اسرائیلیوں کو اپنے گرد متحد کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
تاہم، جنوری میں جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط نے نتن یاہو کے لیے ایک بڑا مسئلہ کھڑا کر دیا، کیونکہ انتہائی دائیں بازو کے سابق قومی سلامتی وزیر ایتامار بن گویر نے احتجاجاً اپنی ’انتہا پسند قوم پرست‘ جماعت اوتزما یہودیت (یہودی پاور) کو حکومت سے الگ کر لیا۔ وزیر خزانہ بزالیل سموٹریچ نے بھی دھمکی دی کہ اگر جنگ بندی کے ’پہلے مرحلے‘ کے بعد جنگ دوبارہ شروع نہ کی گئی تو وہ بھی یہی کچھ کریں گے۔
یہ جنونی اپنے صیہونی منصوبے کی مکمل تکمیل کے سوا کچھ کم قبول کرنے کو تیار نہیں: وہ فلسطینی آبادی کو نسلی بنیادوں پر خطے سے نکالنا چاہتے ہیں، اور یہودی آبادکاروں کو غزہ اورویسٹ بینک پر مکمل کنٹرول دینا چاہتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ جنگ ان اہداف کو حاصل کرنے کا ایک بہترین موقع ہے۔
نتن یاہو بن گویراور سموٹریچ کو نظر انداز کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس کی حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں۔ اگر وہ 31 مارچ تک 2025ء کا تاخیر کا شکار بجٹ منظور نہیں کراتا، تو اس کی حکومت خود بخود تحلیل ہو جائے گی اور نئے انتخابات کرانے پڑیں گے، جن میں اس کے ہارنے کے امکانات کافی زیادہ ہوں گے۔
جنگ بندی کو توڑنا دراصل نتن یاہو کو اپنی کمزور مخلوط حکومت کو دوبارہ مستحکم کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، خاص طور پر آنے والے انتخابات کی تیاری کو مد نظر رکھتے ہوئے۔ جیسے ہی نتن یاہو نے غزہ پر بمباری دوبارہ شروع کرنے کا حکم دیا، بن گویر نے اعلان کیا کہ وہ حکومت میں واپس شامل ہو رہا ہے۔ تاہم، اگرچہ اس سے وقتی طور پر نتن یاہو کی حکومت کو تقویت مل سکتی ہے، لیکن طویل مدت میں جنگ کے تسلسل سے اس کے مسائل مزید بڑھ جائیں گے۔
ٹرمپ کی محدودیت
تنازع کے دوبارہ آغاز نے ٹرمپ کی سفارت کاری کی حدود کو بے نقاب کر دیا ہے۔ جنوری میں، ٹرمپ اس بات پر خوش تھا کہ اس نے اپنے نمائندے، اسٹیو وٹکوف، کے ذریعے نیتن یاہو کو جنگ بندی پر مجبور کر دیا تھا، جبکہ اس سے پہلے بائیڈن اس میں ناکام رہا۔
فروری میں جب یہ معاہدہ بگڑنے لگا، اور اسرائیل نے دوسرے مرحلے کی شرائط میں ترمیم کرنے کی کوشش کی، تو ٹرمپ نے حماس پر دباؤ بڑھانے کے لیے مداخلت کی۔ اس نے حتیٰ کہ حماس کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا کنٹرول بھی سنبھال لیا، اور اسرائیلیوں کو پس پشت ڈال دیا۔ ٹرمپ کو یقین تھا کہ دھمکیوں اور دباؤ کے ذریعے وہ حماس کو اسرائیلی شرائط پر جھکنے پر مجبور کر سکتا ہے اور معاہدے کو دوبارہ پٹڑی پر لا سکتا ہے۔
05 مارچ کو اپنی ایک ٹروتھ سوشل پوسٹ کے ذریعے ٹرمپ نے دھمکی دی کہ غزہ کے لوگ مارے جائیں گے اگر حماس نے فوری طور پر باقی تمام یرغمالیوں کو رہا نہیں کیا۔ ”میں اسرائیل کو ضرورت کی ہر چیز بھیج رہا ہوں جو غزہ میں اس کام کو کرنے کیلئے انہیں درکار ہے۔ حماس کا ایک بھی رکن محفوظ نہیں ہوگا اگر آپ نے ویسا نہ کیا جو میں کہہ رہا ہوں‘‘اس نے گرج کر کہا کہ’’ابھی یرغمالیوں کو رہا کرو، ورنہ بعد میں اپنی زندگی کو جہنم بنتا دیکھو گے“۔
لیکن حماس کے نقطہ نظر سے، اگر وہ تمام یرغمالیوں کو فوری طور پر رہا کر دیتے،اور بدلے میں صرف ایک مختصر ’جنگ بندی‘ حاصل کرتے تو اسرائیل کو دوبارہ بھرپور حملے کرنے سے روکنے کے لیے کوئی چیز موجود نہ ہوتی۔ یہ ایسی شرط ہے جسے وہ کسی صورت قبول نہیں کر سکتے۔
ٹرمپ ایک ارب پتی مینہٹن رئیل اسٹیٹ تاجر کے انداز میں سوچتا اور عمل کرتا ہے، لیکن فرق یہ ہے کہ اس کے پاس دنیا کی سب سے طاقتور فوج کے وسائل بھی موجود ہیں۔ وہ سمجھتا ہے کہ اگر وہ اپنے مخالفین پر کافی دباؤ ڈالے اور دھمکیاں دے، تو انہیں کسی معاہدے پر مجبور کر سکتا ہے۔ لیکن جیسا کہ وہ تلخ تجربے سے سیکھ رہا ہے، کچھ سماجی قوتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو اس کے قابو سے باہر ہیں، اور جہاں اس کی طاقت بھی بے اثر ثابت ہو سکتی ہے۔
ایک مثالی دنیا میں، ٹرمپ چاہتا ہے کہ حماس کو غزہ سے مکمل طور پر ختم کر دیا جائے، جیسا کہ اس نے خود واضح کیا ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل نے جنوری میں صاف لکھا تھا: ”منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز کا کہنا ہے کہ حماس کو تباہ کرنا ہوگا اور اسے جنگ کے بعد کے غزہ میں کوئی کردار نہیں دیا جا سکتا۔“ٹرمپ جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے تاکہ وہ امریکی سامراج کے وسائل کو اپنے قریبی خطوں میں اپنی جگہ کو مستحکم کرنے پر لگا سکے، اور اپنے سب سے بڑے حریف، چین کا مقابلہ کر سکے۔ لیکن یوکرین کے برعکس، جہاں وہ جنگ کو یورپی طاقتوں کے سر ڈال سکتا ہے تاکہ وہ اس کے اثرات سے خود نمٹیں، اسرائیل کے معاملے میں ایسا کوئی متبادل موجود نہیں جو امریکہ کی جگہ لے سکے۔
لیکن ٹرمپ حماس کو ان پر ایک بار پھر اسرائیلی دفاعی افواج کے پاگل کتے چھوڑنے کی دھمکیاں ہی لگا سکتا تھا۔ خطے میں استحکام لانا تو درکنار جنگ کی دوبارہ شروعات خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دے گی۔
ظلم کی شدت میں اضافہ
دوسری طرف، نتن یاہو نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر جبر میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اس نے شدت پسند یہودی آبادکاروں کو اسرائیلی فوج (IDF) کی سرپرستی میں فلسطینیوں کے خلاف منظم قتل عام کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی ہے۔اس کے نتیجے میں، مغربی کنارے میں ہزاروں فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ سیکڑوں کو قتل کر دیا گیا ہے۔ اس ظلم نے مغربی کنارے کو مزید غیر مستحکم کر دیا ہے اور پڑوسی عرب ممالک میں پنپتے ہوئے لاوے کو مہمیز دے رہا ہے۔
درحقیقت، نتن یاہو نے گزشتہ سال کے دوران پہلے ہی پورے خطے کو بری طرح غیر مستحکم کر دیا ہے۔ 2024 ء میں جنگ کو لبنان تک پھیلانے کے ذریعے اور حزب اللہ کو اپنے داخلی محاذ پر مرکوز ہونے پر مجبور کر کے اس نے شام میں اسد حکومت کے زوال کے حالات پیدا کرنے میں مدد کی۔ حیات تحریر الشام کے تحت کیے گئے قتل عام اور ان کے اقتدار میں آنے نے ایسے واقعات کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، لہٰذا غالب امکان یہی ہے کہ شام کو دوبارہ خانہ جنگی کی تباہی میں دھکیل دیں گے۔
اور بظاہر نتن یاہو کی جانب سے غزہ پر تازہ بمباری کی پیشگی توقع کرتے ہوئے، ٹرمپ نے برطانیہ کی ملی بھگت سے ہفتے کے روز یمن میں حوثیوں پر ایک بڑے حملے کا آغاز کیا۔ ٹرمپ جانتا تھا کہ جنگ بندی کے خاتمے سے حوثی فلسطینیوں سے یکجہتی کے طور پر بحیرہ احمر میں امریکہ کے حامی بحری جہازوں پر حملے دوبارہ شروع کر دیں گے۔

ٹرمپ، جو یہ سمجھتا تھا کہ وہ محض دھمکیاں دے کر حوثیوں کو قابو میں رکھ سکتا ہے، نے صورتحال کو مزید بگاڑتے ہوئے ایران کو خبردار کیا کہ اگر حوثیوں نے طاقت کا جواب طاقت سے دیا تو اسے”سنگین نتائج“ بھگتنا ہوں گے۔ لیکن اس کا واحد نتیجہ یہ نکلا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا، کیونکہ حوثیوں نے پہلے ہی اسرائیل پر میزائل داغ کر جواب دے دیا ہے۔
نتن یاہو ابتدا سے ہی امریکہ کو ایران کے ساتھ جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دوسری طرف، ٹرمپ نے واضح کر دیا کہ وہ اس کے برعکس سمت میں دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ کسی حد تک استحکام بحال کیا جا سکے۔ لیکن جو کچھ وہ چاہتا ہے اور جو حقیقت میں ہوتا ہے، وہ دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ حوثیوں پر اس کے حملے اور ایرانی حکومت سے اس کے مطالبات دراصل مذاکرات کو کسی معاہدے کی طرف دھکیلنے کے لیے ترتیب دیے گئے ہیں، لیکن اس کا نتیجہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ پوری صورتحال کو مزید غیر مستحکم کر دے۔
اسرائیل کا اندرونی عدم استحکام
نتن یاہو نے اعلان کیا کہ منگل کے روز غزہ پر بمباری”محض شروعات“ تھی۔ درحقیقت، اگلے ہی دن اسرائیلی فوج (IDF) نے زمینی حملے دوبارہ شروع کر دیے اور وہ علاقے دوبارہ حاصل کرنے لگے جو جنگ بندی کے معاہدے کے تحت چھوڑ دیے گئے تھے۔
اسرائیلی وزیر دفاع، اسرائیل کاٹز نے کہا: ”حماس کے دہشت گردوں پر فضائی حملہ صرف پہلا قدم تھا۔“ اس نے دھمکی دی کہ اگر”تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہ کیا گیا اورحماس کا خاتمہ نہ ہوا تو وہ غزہ کو مکمل طور پر تباہ کر دے گا“۔ ایک بیان میں اس نے کہا: ”اسرائیل اس طاقت سے حملہ کرے گا جو تم نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔“
تاہم، حماس کو ختم کرنے کا کہنا جتنا آسان ہے، کرنا اتنا ہی مشکل۔ اسرائیل نے گزشتہ 17 ماہ کے دوران اپنی پوری کوشش کی ہے کہ وہ یہ مقصد حاصل کر سکے۔ اس دوران، اسرائیلی حملوں میں کم از کم 48,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، غزہ کے 90 فیصد گھروں کو تباہ کر دیا گیا ہے، اور اس کا بنیادی ڈھانچہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ پھر بھی، حماس شکست سے دوچار نہیں ہوئی۔ اس نے غیر معمولی مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے اور اسے نہ صرف نئے جنگجو ملے ہیں بلکہ عوامی حمایت بھی بدستور قائم ہے۔ بین الاقوامی نیوز ایجنسی، رائٹرز کے مطابق، ”جنگ کے آغاز سے اب تک حماس نے 10,000 سے 15,000 نئے افراد بھرتی کیے ہیں۔“
اسرائیل کی نسل کشی پر مبنی پالیسی نے پوری آبادی کو مشتعل کر دیا ہے، جن کے پاس اب کھونے کیلئے کچھ بھی نہیں بچا۔ حماس نے نوجوان جنگجوؤں کی ایک نئی کھیپ بھرتی کی ہے، جو اسرائیل کے جرائم کا بدلہ لینے کے لیے بے تاب ہیں۔اس پورے تنازع کے دوران واضح نظر آیا ہے کہ جہاں کہیں بھی اسرائیلی فوج (IDF) نے غزہ سے پسپائی اختیار کی، حماس نے فوراً دوبارہ کنٹرول سنبھال لیا۔ اس لیے حماس کو محض طاقت کے ذریعے ہٹایا یا”ختم“ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ غزہ کے عوام کی مزاحمت اور ان کی روزمرہ زندگی سے گہرے انداز میں جڑ چکی ہے۔
تنازع کو طول دینے سے صرف اسرائیلی حکومت کے بحران میں مزید شدت آئے گی۔ اسرائیلی فوج (IDF) کے نئے چیف آف اسٹاف، ایوال زامیر، نے اشارہ دیا ہے کہ زمینی حملے کے دوبارہ آغاز کے لیے IDF کی کئی ڈویژنیں درکار ہوں گی۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ریزرو فوجیوں کی بڑے پیمانے پر نئی بھرتی کی جائے گی۔
نیتن یاہو کے سابق قومی سلامتی کے مشیر، یعقوب امیڈرو، نے اس ممکنہ حملے کے تقاضوں کی ایک جھلک پیش کی:”پہلے، ہمارے پاس اتنی فوج نہیں تھی کہ ہم غزہ میں لیے گئے علاقوں پر مکمل کنٹرول حاصل کر سکیں اور انہیں مکمل طور پر صاف کر سکیں۔ ہم نے وہاں موجود لوگوں کو مار دیا، لیکن بعد میں پیچھے ہٹ گئے۔ اب ہمیں ایسی کارروائی کرنی ہوگی جس میں ہم طویل مدت تک موجود رہیں۔“
لیکن اسرائیلی معاشرے اور خود IDF میں جنگ کو طول دینے کے خلاف بڑھتی ہوئی بے چینی اور ناراضی پائی جاتی ہے۔
حالیہ کئی عوامی جائزوں سے یہ واضح ہو چکا ہے کہ جنگ، اور نتن یاہو، اسرائیلی عوام کی ایک بڑی تعداد میں کتنے غیر مقبول ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی لبرل اخبار ہاریٹز نے اس صورتحال کو یوں بیان کیا:”تقریباً نصف اسرائیلی وہ ہیں جو یقین نہیں رکھتے کہ اسرائیل اپنے جنگی مقاصد حاصل کر سکتا ہے، 60 فیصد وہ ہیں جو چاہتے ہیں کہ نتن یاہو استعفیٰ دے، اور 73 فیصد مکمل جنگ بندی اور غزہ سے انخلا کو ترجیح دیتے ہیں، تو پھر جنگ لڑنے کا کوئی جواز باقی بچا ہے؟“

ہاریٹز نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 2024 ء کے وسط تک IDF کے ریزرو فوجیوں کی بھرتی کے لیے ردِعمل دینے کی شرح پہلے ہی کم ہو چکی تھی۔ یہ صورتحال جنوری میں جنگ بندی کے وقت مزید بگڑ گئی اور مارچ تک برقرار رہی، یہاں تک کہ:”کئی فوجی یونٹوں میں صرف نصف کے قریب ریزرو فوجی رپورٹ کر رہے تھے۔“
یہ صورتحال مزید خراب ہوگی، کیونکہ جیسے جیسے مزید IDF فوجی ہلاک یا زخمی ہو کر واپس آئیں گے، اور اگر (جیسا کہ ممکنہ ہے) مزید اسرائیلی یرغمالی مارے جائیں گے، تو عوامی ردعمل مزید شدید ہوگا۔
یرغمالیوں کی واپسی کا مسئلہ اس پورے تنازع کے دوران اسرائیل کے اندر ایک اہم سوال رہا ہے۔ لیکن جیسے جیسے جنگ طول پکڑتی جا رہی ہے اور مزید یرغمالی مارے جا رہے ہیں، یہ بات اور بھی واضح ہوتی جا رہی ہے کہ نتن یاہو کے لیے جنگ جاری رکھنا ذاتی طور پر زیادہ اہم ہے بجائے اس کے کہ وہ یرغمالیوں کی جان بچانے میں دلچسپی لے۔
مثال کے طور پر، ”یرغمالیوں اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے فورم“ نے منگل کے حملوں کے بعد ایک بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ وہ”جنگ بندی کے خاتمے پر صدمے، غصے اور خوف“ کا شکار ہیں۔ اس فورم نے نتن یاہو کی حکومت پر”ہمارے پیاروں کی واپسی کے عمل کو جان بوجھ کر سبوتاژ کرنے“ کا الزام عائد کیا، جو ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
اسی طرح، اسرائیل کی لیبر پارٹی کے رہنما یائر گولان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر لکھا:”محاذِ جنگ پر موجود فوجی اور غزہ میں یرغمالی،نیتن یاہوکی بقا کے کھیل میں محض مہرے ہیں۔“
دوسری طرف، نتن یاہو کو شِن بیت (Shin Bet) کے داخلی سیکیورٹی چیف رونن بار کو برطرف کرنے کے منصوبے پر شدید ردعمل کا سامنا ہے، ساتھ ہی ساتھ اسرائیل کی اٹارنی جنرل گالی بہاراو-میارا کو ہٹانے پر بھی، جو ان کی سخت ناقد رہی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ شِن بیت نیتن یاہو کے تین مشیروں کے خلاف قطر سے فنڈز وصول کرنے کے الزامات کی تحقیقات کر رہا تھا، جن میں سے دو کو اس ہفتے پولیس نے گرفتار کر لیا۔تاہم، بار پہلے ہی نتن یاہو کے نشانے پر تھا، کیونکہ شِن بیت نے 7 اکتوبر سے قبل کی سیکیورٹی ناکامیوں پر اپنی تحقیقات میں نتن یاہو کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
بار کی برطرفی کو بہت سے لوگ نیتن یاہو کی جانب سے اسرائیلی ریاست سے اپنے ناقدین کو نکالنے کی ایک اور کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جس سے اسرائیل کے آئینی بحران کو مزید ہوا مل رہی ہے۔ کچھ لوگوں نے تو غزہ پر حالیہ بمباری کے وقت کو بھی اس اقدام سے توجہ ہٹانے کی چال کے طور پر جوڑا ہے۔در اصل، جمعرات کی رات تل ابیب میں 40,000 افراد نے بار کی برطرفی کے خلاف احتجاج کیا، جبکہ دیگر اسرائیلی شہروں میں بھی مظاہرے پھوٹ پڑے۔ مظاہرین نے نتن یاہو کی ”اقتدار پر قبضے“ کی کوشش اور جنگ کے دوبارہ آغاز، دونوں کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔
سرمایہ داری میں کوئی حل نہیں
جنوری میں ایک بڑی امید پیدا ہوئی تھی کہ غزہ کے عوام پر مسلط کردہ عذاب کسی حد تک کم ہوگا، چاہے جزوی طور پر ہی سہی۔ لیکن اس ہفتے یہ امیدیں بے رحمی سے چکناچور ہو گئی ہیں۔
جب تک نیتن یاہو اقتدار سے چمٹا ہوا ہے، اسے جنگ جاری رکھنے میں ہی فائدہ نظر آتا ہے۔ لیکن ایسا کرتے ہوئے وہ آگ سے کھیل رہا ہے، ایسی آگ جو اس کے قابو سے باہر ہو کر پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
اگرچہ اسرائیل میں صہیونیت کے لیے اب بھی مضبوط حمایت موجود ہے، لیکن نیتن یاہو اور اس کے دائیں بازو کے انتہا پسند اتحادی اپنے اقدامات سے ثابت کر رہے ہیں کہ جب تک فلسطینی عوام مظلوم ہیں، تب تک اسرائیلی یہودیوں کے لیے حقیقی ”سیکیورٹی“ ممکن نہیں۔ جنگ میں شدت لانے سے نہ تو حماس کا خاتمہ ہوگا، نہ ہی یرغمالیوں کی رہائی ممکن ہوگی۔ البتہ یہ اسرائیل کو معاشی، سماجی اور عسکری بحرانوں میں مزید دھکیل دے گا۔
لہٰذا، جیسے جیسے غزہ کے نئے محاصرے اور بمباری میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، مصر اور اردن کی حکومتوں کی ملی بھگت کے خلاف عرب عوام کا غصہ بھی شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ بعید نہیں کہ کسی موڑ پر یہ کشیدگی اپنے نقطہِ عروج پر پہنچ کر پھٹ پڑے اور عرب دنیا میں انقلابات کی ایک نئی لہر کو جنم دے۔
مغرب میں لاکھوں لوگوں پر یہ حقیقت روز بروز مزید واضح ہو رہی ہے کہ سامراجی طاقتوں کے پاس اس بحران کا کوئی حل نہیں۔ درحقیقت، ٹرمپ، سٹارمر، میکرون اور دیگر عالمی رہنماؤں کی اسرائیل کی نسل کشی کی حمایت میں شراکت داری وقت کے ساتھ ساتھ مزدوروں اور نوجوانوں میں مزید نفرت اور بیزاری پیدا کرے گی۔ سرمایہ دارانہ جمہوریت کا خوشنما نقاب اتر رہا ہے اور اس کی اصل حقیقت آشکار ہو رہی ہے، یہ دراصل چند ارب پتی حکمرانوں کے ہاتھوں دنیا کے مزدوروں اور غریب عوام کے بے رحمانہ استحصال کا ایک پردہ تھا، جو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔
فلسطینیوں کو اپنی سرزمین پر حق حاصل ہے، مگر اس حق کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کوئی بھی سنجیدہ اقدامات نہیں کر رہا۔ مغربی سامراجی طاقتیں، چاہے وہ شمالی امریکہ کی ہوں یا یورپ کی، کھل کر نیتن یاہو کی نسل کشی پر مبنی جنگ کی حمایت کر رہی ہیں۔ مقامی عرب حکومتوں نے بھی یا تو براہ راست اسرائیل سے سازباز کر لی ہے یا محض فلسطینی ریاست کے حق میں کھوکھلے بیانات دینے پر اکتفا کیا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی فلسطینی عوام کا حقیقی ساتھی نہیں۔
تاہم، مشرق وسطیٰ کے لاکھوں عام محنت کش عوام، نوجوان، غریب اور مظلوم طبقے اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کی جدوجہد کی حمایت کرتے ہیں۔ فلسطین کی حقیقی آزادی اور ظلم و خونریزی کے خاتمے کے لیے صرف ایک ہی راستہ ہے: ان تمام قوتوں کا انقلابی طریقے سے تختہ الٹ دینا جو اس ظلم کے ذمہ دار ہیں، سامراجی طاقتیں، صیہونی ریاست، اور مشرق وسطیٰ کی وہ تمام حکومتیں جو ان کی ساتھی بنی ہوئی ہیں۔